بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓصٓ
Alif, Lam, Meem, Sad.
المص
Tafsir al-Muyassar
سبق الكلام على الحروف المقطَّعة في أول سورة البقرة.
Al-A'raafسُورَةُ الأَعۡرَافِ
The Heights · Meccan · 206 ayahs
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ الٓمٓصٓ
Alif, Lam, Meem, Sad.
المص
سبق الكلام على الحروف المقطَّعة في أول سورة البقرة.
كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
[This is] a Book revealed to you, [O Muhammad] - so let there not be in your breast distress therefrom - that you may warn thereby and as a reminder to the believers.
(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے
هذا القرآن كتاب عظيم أنزله الله عليك -أيها الرسول- فلا يكن في صدرك شك منه في أنه أنزل من عند الله، ولا تتحرج في إبلاغه والإنذار به، أنزلناه إليك؛ لتخوف به الكافرين وتذكر المؤمنين.
ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ
Follow, [O mankind], what has been revealed to you from your Lord and do not follow other than Him any allies. Little do you remember.
(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو
اتبعوا -أيها الناس- ما أُنزل إليكم من ربكم من الكتاب والسنة بامتثال الأوامر واجتناب النواهي، ولا تتبعوا من دون الله أولياء كالشياطين والأحبار والرهبان. إنكم قليلا ما تتعظون، وتعتبرون، فترجعون إلى الحق.
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ
And how many cities have We destroyed, and Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
وكثير من القرى أهلكنا أهلها بسبب مخالفة رسلنا وتكذيبهم، فأعقبهم ذلك خزي الدنيا موصولا بذلِّ الآخرة، فجاءهم عذابنا مرة وهم نائمون ليلا ومرة وهم نائمون نهارًا. وخَصَّ الله هذين الوقتين؛ لأنهما وقتان للسكون والاستراحة، فمجيء العذاب فيهما أفظع وأشد.
فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
And their declaration when Our punishment came to them was only that they said, "Indeed, we were wrongdoers!"
تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے
فما كان قولهم عند مجيء العذاب إلا الإقرار بالذنوب والإساءة، وأنهم حقيقون بالعذاب الذي نزل بهم.
فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ
Then We will surely question those to whom [a message] was sent, and We will surely question the messengers.
تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے
فلنسألن الأمم الذي أرسل إليهم المرسلون: ماذا أجبتم رسلنا إليكم؟ ولنسْألَنَّ المرسلين عن تبليغهم لرسالات ربهم، وعمَّا أجابتهم به أممهم.
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ
Then We will surely relate [their deeds] to them with knowledge, and We were not [at all] absent.
پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے
فلَنقُصَّنَّ على الخلق كلهم ما عملوا بعلم منا لأعمالهم في الدنيا فيما أمرناهم به، وما نهيناهم عنه، وما كنا غائبين عنهم في حال من الأحوال.
وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
And the weighing [of deeds] that Day will be the truth. So those whose scales are heavy - it is they who will be the successful.
اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں
ووزن أعمال الناس يوم القيامة يكون بميزان حقيقي بالعدل والقسط الذي لا ظلم فيه، فمن ثقلت موازين أعماله -لكثرة حسناته- فأولئك هم الفائزون.
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ
And those whose scales are light - they are the ones who will lose themselves for what injustice they were doing toward Our verses.
اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے
ومن خَفَّتْ موازين أعماله -لكثرة سيئاته- فأولئك هم الذين أضاعوا حظَّهم من رضوان الله تعالى، بسبب تجاوزهم الحد بجحد آيات الله تعالى وعدم الانقياد لها.
وَلَقَدْ مَكَّنَّٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ
And We have certainly established you upon the earth and made for you therein ways of livelihood. Little are you grateful.
اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو
ولقد مكَّنَّا لكم -أيها الناس- في الأرض، وجعلناها قرارًا لكم، وجعلنا لكم فيها ما تعيشون به من مطاعم ومشارب، ومع ذلك فشكركم لنعم الله قليل.
وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
And We have certainly created you, [O Mankind], and given you [human] form. Then We said to the angels, "Prostrate to Adam"; so they prostrated, except for Iblees. He was not of those who prostrated.
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
ولقد أنعمنا عليكم بخلق أصلكم -وهو أبوكم آدم من العدم- ثم صوَّرناه على هيئته المفضلة على كثير من الخلق، ثم أمرنا ملائكتنا عليهم السلام بالسجود له -إكرامًا واحترامًا وإظهارًا لفضل آدم- فسجدوا جميعًا، لكنَّ إبليس الذي كان معهم لم يكن من الساجدين لآدم؛ حسدًا له على هذا التكريم العظيم.
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا۠ خَيْرٌۭ مِّنْهُ خَلَقْتَنِى مِن نَّارٍۢ وَخَلَقْتَهُۥ مِن طِينٍۢ
[Allah] said, "What prevented you from prostrating when I commanded you?" [Satan] said, "I am better than him. You created me from fire and created him from clay."
(خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے
قال تعالى منكرًا على إبليس تَرْكَ السجود: ما منعك ألا تسجد إذ أمرتك؟ فقال إبليس: أنا أفضل منه خلقًا؛ لأني مخلوق من نار، وهو مخلوق من طين. فرأى أن النار أشرف من الطين.
قَالَ فَٱهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّٰغِرِينَ
[Allah] said, "Descend from Paradise, for it is not for you to be arrogant therein. So get out; indeed, you are of the debased.
فرمایا تو (بہشت سے) اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا۔ تو ذلیل ہے
قال الله لإبليس: فاهبط من الجنة، فما يصح لك أن تتكبر فيها، فاخرج من الجنة، إنك من الذليلين الحقيرين.
قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
[Satan] said, "Reprieve me until the Day they are resurrected."
اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے
قال إبليس لله -جل وعلا- حينما يئس من رحمته: أمهلني إلى يوم البعث؛ وذلك لأتمكن من إغواء مَن أقدر عليه من بني آدم.
قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ
[Allah] said, "Indeed, you are of those reprieved."
فرمایا (اچھا) تجھ کو مہلت دی جاتی ہے
قال الله تعالى: إنك ممن كتبتُ عليهم تأخير الأجل إلى النفخة الأولى في القرن، إذ يموت الخلق كلهم.
قَالَ فَبِمَآ أَغْوَيْتَنِى لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَٰطَكَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
[Satan] said, "Because You have put me in error, I will surely sit in wait for them on Your straight path.
(پھر) شیطان نے کہا مجھے تو تُو نے ملعون کیا ہی ہے میں بھی تیرے سیدھے رستے پر ان (کو گمراہ کرنے) کے لیے بیٹھوں گا
قال إبليس لعنه الله: فبسبب ما أضللتني لأجتهدنَّ في إغواء بني آدم عن طريقك القويم، ولأصدَّنَّهم عن الإسلام الذي فطرتهم عليه.
ثُمَّ لَءَاتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَٰنِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَٰكِرِينَ
Then I will come to them from before them and from behind them and on their right and on their left, and You will not find most of them grateful [to You]."
پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا
ثم لآتينَّهم من جميع الجهات والجوانب، فأصدهم عن الحق، وأُحسِّن لهم الباطل، وأرغبهم في الدنيا، وأشككهم في الآخرة، ولا تجد أكثر بني آدم شاكرين لك نعمتك.
قَالَ ٱخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًۭا مَّدْحُورًۭا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ
[Allah] said, "Get out of Paradise, reproached and expelled. Whoever follows you among them - I will surely fill Hell with you, all together."
(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا
قال الله تعالى لإبليس: اخرج من الجنة ممقوتًا مطرودًا، لأملأنَّ جهنم منك وممن تبعك من بني آدم أجمعين.
وَيَٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
And "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat from wherever you will but do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers."
اور ہم نے آدم (سے کہا کہ) تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) نوش جان کرو مگر اس درخت کے پاس نہ جاؤ ورنہ گنہگار ہو جاؤ گے
ويا آدم اسكن أنت وزوجك حواء الجنة، فكُلا من ثمارها حيث شئتما، ولا تأكلا من ثمرة شجرة (عَيَّنها لهما)، فإن فعلتما ذلك كنتما من الظالمين المتجاوزين حدود الله.
فَوَسْوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيْطَٰنُ لِيُبْدِىَ لَهُمَا مَا وُۥرِىَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ ٱلْخَٰلِدِينَ
But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, "Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal."
تو شیطان دونوں کو بہکانے لگا تاکہ ان کی ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں کھول دے اور کہنے لگا کہ تم کو تمہارے پروردگار نے اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہ تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ جیتے نہ رہو
فألقى الشيطان لآدم وحواء وسوسة لإيقاعهما في معصية الله تعالى بالأكل من تلك الشجرة التي نهاهما الله عنها؛ لتكون عاقبتهما انكشاف ما سُتر من عوراتهما، وقال لهما في محاولة المكر بهما: إنما نهاكما ربكما عن الأكل مِن ثمر هذه الشجرة مِن أجل أن لا تكونا ملَكين، ومِن أجل أن لا تكونا من الخالدين في الحياة.
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
And he swore [by Allah] to them, "Indeed, I am to you from among the sincere advisors."
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
وأقسم الشيطان لآدم وحواء بالله إنه ممن ينصح لهما في مشورته عليهما بالأكل من الشجرة، وهو كاذب في ذلك.
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ
So he made them fall, through deception. And when they tasted of the tree, their private parts became apparent to them, and they began to fasten together over themselves from the leaves of Paradise. And their Lord called to them, "Did I not forbid you from that tree and tell you that Satan is to you a clear enemy?"
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
فجرَّأهما وغرَّهما، فأكلا من الشجرة التي نهاهما الله عن الاقتراب منها، فلما أكلا منها انكشفت لهما عوراتهما، وزال ما سترهما الله به قبل المخالفة، فأخذا يلزقان بعض ورق الجنة على عوراتهما، وناداهما ربهما جل وعلا ألم أنهكما عن الأكل من تلك الشجرة، وأقل لكما: إن الشيطان لكما عدو ظاهر العداوة؟ وفي هذه الآية دليل على أن كشف العورة من عظائم الأمور، وأنه كان ولم يزل مستهجَنًا في الطباع، مستقبَحًا في العقول.
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
They said, "Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and have mercy upon us, we will surely be among the losers."
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
قال آدم وحواء: ربنا ظلمنا أنفسنا بالأكل من الشجرة، وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن ممن أضاعوا حظَّهم في دنياهم وأخراهم. (وهذه الكلمات هي التي تلقاها آدم من ربه، فدعا بها فتاب الله عليه).
قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ
[Allah] said, "Descend, being to one another enemies. And for you on the earth is a place of settlement and enjoyment for a time."
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
قال تعالى مخاطبًا آدم وحواء لإبليس: اهبطوا من السماء إلى الأرض، وسيكون بعضكم لبعض عدوًا، ولكم في الأرض مكان تستقرون فيه، وتتمتعون إلى انقضاء آجالكم.
قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
He said, "Therein you will live, and therein you will die, and from it you will be brought forth."
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
قال الله تعالى لآدم وحوَّاء وذريتهما: فيها تحيون، أي: في الأرض تقضون أيام حياتكم الدنيا، وفيها تكون وفاتكم، ومنها يخرجكم ربكم، ويحشركم أحياء يوم البعث.
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
O children of Adam, We have bestowed upon you clothing to conceal your private parts and as adornment. But the clothing of righteousness - that is best. That is from the signs of Allah that perhaps they will remember.
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
يا بني آدم قد جعلنا لكم لباسًا يستر عوراتكم، وهو لباس الضرورة، ولباسًا للزينة والتجمل، وهو من الكمال والتنعم. ولباسُ تقوى الله تعالى بفعل الأوامر واجتناب النواهي هو خير لباس للمؤمن. ذلك الذي مَنَّ الله به عليكم من الدلائل على ربوبية الله تعالى ووحدانيته وفضله ورحمته بعباده؛ لكي تتذكروا هذه النعم، فتشكروا لله عليها. وفي ذلك امتنان من الله تعالى على خَلْقه بهذه النعم.
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
O children of Adam, let not Satan tempt you as he removed your parents from Paradise, stripping them of their clothing to show them their private parts. Indeed, he sees you, he and his tribe, from where you do not see them. Indeed, We have made the devils allies to those who do not believe.
اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
يا بني آدم لا يخدعنَّكم الشيطان، فيزين لكم المعصية، كما زيَّنها لأبويكم آدم وحواء، فأخرجهما بسببها من الجنة، ينزع عنهما لباسهما الذي سترهما الله به؛ لتنكشف لهما عوراتهما. إن الشيطان يراكم هو وذريته وجنسه وأنتم لا ترونهم فاحذروهم. إنَّا جعلنا الشياطين أولياء للكفار الذين لا يوحدون الله، ولا يصدقون رسله، ولا يعملون بهديه.
وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
And when they commit an immorality, they say, "We found our fathers doing it, and Allah has ordered us to do it." Say, "Indeed, Allah does not order immorality. Do you say about Allah that which you do not know?"
اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں
وإذا أتى الكفار قبيحًا من الفعل اعتذروا عن فعله بأنه مما ورثوه عن آبائهم، وأنه مما أمر الله به. قل لهم -أيها الرسول-: إن الله تعالى لا يأمر عباده بقبائح الأفعال ومساوئها، أتقولون على الله -أيها المشركون- ما لا تعلمون كذبًا وافتراءً؟
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ
Say, [O Muhammad], "My Lord has ordered justice and that you maintain yourselves [in worship of Him] at every place [or time] of prostration, and invoke Him, sincere to Him in religion." Just as He originated you, you will return [to life] -
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: أمر ربي بالعدل، وأمركم بأن تخلصوا له العبادة في كل موضع من مواضعها، وبخاصة في المساجد، وأن تدعوه مخلصين له الطاعة والعبادة، وأن تؤمنوا بالبعث بعد الموت. وكما أن الله أوجدكم من العدم فإنه قادر على إعادة الحياة إليكم مرة أخرى.
فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
A group [of you] He guided, and a group deserved [to be in] error. Indeed, they had taken the devils as allies instead of Allah while they thought that they were guided.
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
جعل الله عباده فريقين: فريقًا وفَّقهم للهداية إلى الصراط المستقيم، وفريقًا وجبت عليهم الضلالة عن الطريق المستقيم، إنهم اتخذوا الشياطين أولياء من دون الله، فأطاعوهم جهلا منهم وظنًا بأنهم قد سلكوا سبيل الهداية.
۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
O children of Adam, take your adornment at every masjid, and eat and drink, but be not excessive. Indeed, He likes not those who commit excess.
اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
يا بني آدم كونوا عند أداء كل صلاة على حالة من الزينة المشروعة من ثياب ساترة لعوراتكم ونظافة وطهارة ونحو ذلك، وكلوا واشربوا من طيبات ما رزقكم الله، ولا تتجاوزوا حدود الاعتدال في ذلك. إن الله لا يحب المتجاوزين المسرفين في الطعام والشراب وغير ذلك.
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ
Say, "Who has forbidden the adornment of Allah which He has produced for His servants and the good [lawful] things of provision?" Say, "They are for those who believe during the worldly life [but] exclusively for them on the Day of Resurrection." Thus do We detail the verses for a people who know.
پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے
قل -أيها الرسول- لهؤلاء الجهلة من المشركين: مَن الذي حرم عليكم اللباس الحسن الذي جعله الله تعالى زينة لكم؟ ومَن الذي حرَّم عليكم التمتع بالحلال الطيب من رزق الله تعالى؟ قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: إنَّ ما أحله الله من الملابس والطيبات من المطاعم والمشارب حق للذين آمنوا في الحياة الدنيا يشاركهم فيها غيرهم، خالصة لهم يوم القيامة. مثل ذلك التفصيل يفصِّل الله الآيات لقوم يعلمون ما يبيِّن لهم، ويفقهون ما يميز لهم.
قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
Say, "My Lord has only forbidden immoralities - what is apparent of them and what is concealed - and sin, and oppression without right, and that you associate with Allah that for which He has not sent down authority, and that you say about Allah that which you do not know."
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں
قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين: إنما حَرَّم الله القبائح من الأعمال، ما كان منها ظاهرًا، وما كان خفيًّا، وحَرَّم المعاصي كلها، ومِن أعظمها الاعتداء على الناس، فإن ذلك مجانب للحق، وحرَّم أن تعبدوا مع الله تعالى غيره مما لم يُنَزِّل به دليلا وبرهانًا، فإنه لا حجة لفاعل ذلك، وحرَّم أن تنسبوا إلى الله تعالى ما لم يشرعه افتراءً وكذبًا، كدعوى أن لله ولدًا، وتحريم بعض الحلال من الملابس والمآكل.
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
And for every nation is a [specified] term. So when their time has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].
اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی
ولكل جماعة اجتمعت على الكفر بالله تعالى وتكذيب رسله -عليهم الصلاة والسلام- وقت لحلول العقوبة بهم، فإذا جاء الوقت الذي وقَّته الله لإهلاكهم لا يتأخرون عنه لحظة، ولا يتقدمون عليه.
يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
O children of Adam, if there come to you messengers from among you relating to you My verses, then whoever fears Allah and reforms - there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
يا بني آدم إذا جاءكم رسلي من أقوامكم، يتلون عليكم آيات كتابي، ويبينون لكم البراهين على صدق ما جاؤوكم به فأطيعوهم، فإنه من اتقى سخطي وأصلح عمله فلا خوف عليهم يوم القيامة من عقاب الله تعالى، ولا ههم يحزنون على ما فاتهم من حظوظ الدنيا.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
But the ones who deny Our verses and are arrogant toward them - those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
والكفار الذين كذَّبوا بالدلائل على توحيد الله، واستعلَوا عن اتباعها، أولئك أصحاب النار ماكثين فيها، لا يخرجون منها أبدًا.
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ
And who is more unjust than one who invents about Allah a lie or denies His verses? Those will attain their portion of the decree until when Our messengers come to them to take them in death, they will say, "Where are those you used to invoke besides Allah?" They will say, "They have departed from us," and will bear witness against themselves that they were disbelievers.
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
لا أحد أشد ظلمًا ممن اختلق على الله تعالى الكذب، أو كذَّب بآياته المنزلة، أولئك يصل إليهم حظُّهم من العذاب مما كتب لهم في اللوح المحفوظ، حتى إذا جاءهم ملك الموت وأعوانه يقبضون أرواحهم قالوا لهم: أين الذين كنتم تعبدونهم من دون الله من الشركاء والأولياء والأوثان ليخلِّصوكم مما أنتم فيه؟ قالوا: ذهبوا عنا، واعترفوا على أنفسهم حينئذ أنهم كانوا في الدنيا جاحدين مكذبين وحدانية الله تعالى.
قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ
[Allah] will say, "Enter among nations which had passed on before you of jinn and mankind into the Fire." Every time a nation enters, it will curse its sister until, when they have all overtaken one another therein, the last of them will say about the first of them "Our Lord, these had misled us, so give them a double punishment of the Fire. He will say, "For each is double, but you do not know."
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
قال الله تعالى -لهؤلاء المشركين المفترين-: ادخلوا النار في جملة جماعات من أمثالكم في الكفر، قد سلفت من قبلكم من الجن والإنس، كلما دخلت النارَ جماعةٌ من أهل ملة لعنت نظيرتها التي ضلَّتْ بالاقتداء بها، حتى إذا تلاحق في النار الأولون من أهل الملل الكافرة والآخرون منهم جميعًا، قال الآخرون المتبعون في الدنيا لقادتهم: ربنا هؤلاء هم الذين أضلونا عن الحق، فآتهم عذابًا مضاعفا من النار، قال الله تعالى: لكل ضعف، أي: لكل منكم ومنهم عذاب مضاعف من النار، ولكن لا تدركون أيها الأتباع ما لكل فريق منكم من العذاب والآلام.
وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
And the first of them will say to the last of them, "Then you had not any favor over us, so taste the punishment for what you used to earn."
اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو
وقال المتبوعون من الرؤساء وغيرهم لأتباعهم: نحن وأنتم متساوون في الغيِّ والضلال، وفي فِعْلِ أسباب العذاب فلا فَضْلَ لكم علينا، قال الله تعالى لهم جميعًا: فذوقوا العذاب أي عذاب جهنم؛ بسبب ما كسبتم من المعاصي.
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ
Indeed, those who deny Our verses and are arrogant toward them - the gates of Heaven will not be opened for them, nor will they enter Paradise until a camel enters into the eye of a needle. And thus do We recompense the criminals.
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
إن الكفار الذين لم يصدِّقوا بحججنا وآياتنا الدالة على وحدانيتنا، ولم يعملوا بشرعنا تكبرًا واستعلاءً، لا تُفتَّح لأعمالهم في الحياة ولا لأرواحهم عند الممات أبواب السماء، ولا يمكن أن يدخل هؤلاء الكفار الجنة إلا إذا دخل الجمل في ثقب الإبرة، وهذا مستحيل. ومثل ذلك الجزاء نجزي الذين كثر إجرامهم، واشتدَّ طغيانهم.
لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌۭ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍۢ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
They will have from Hell a bed and over them coverings [of fire]. And thus do We recompense the wrongdoers.
ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
هؤلاء الكفار مخلدون في النار، لهم مِن جهنم فراش مِن تحتهم، ومن فوقهم أغطية تغشاهم. وبمثل هذا العقاب الشديد يعاقب الله تعالى الظالمين الذين تجاوزوا حدوده فكفروا به وعصَوْه.
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ
But those who believed and did righteous deeds - We charge no soul except [within] its capacity. Those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
والذين آمنوا بالله وعملوا الأعمال الصالحة في حدود طاقاتهم -لا يكلف الله نفسًا من الأعمال إلا ما تطيق- أولئك أهل الجنة، هم فيها ماكثون أبدًا لا يخرجون منها.
وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ ۖ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ ۖ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
And We will have removed whatever is within their breasts of resentment, [while] flowing beneath them are rivers. And they will say, "Praise to Allah, who has guided us to this; and we would never have been guided if Allah had not guided us. Certainly the messengers of our Lord had come with the truth." And they will be called, "This is Paradise, which you have been made to inherit for what you used to do."
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
وأذهب الله تعالى ما في صدور أهل الجنة من حقد وضغائن، ومن كمال نعيمهم أن الأنهار تجري في الجنة من تحتهم. وقال أهل الجنة حينما دخلوها: الحمد لله الذي وفَّقنا للعمل الصالح الذي أكسبنا ما نحن فيه من النعيم، وما كنا لنوفَّق إلى سلوك الطريق المستقيم لولا أَنْ هدانا الله سبحانه لسلوك هذا الطريق، ووفَّقنا للثبات عليه، لقد جاءت رسل ربنا بالحق من الإخبار بوعد أهل طاعته ووعيد أهل معصيته، ونُودوا تهنئة لهم وإكرامًا: أن تلكم الجنة أورثكم الله إياها برحمته، وبما قدَّمتموه من الإيمان والعمل الصالح.
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّۭا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّۭا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
And the companions of Paradise will call out to the companions of the Fire, "We have already found what our Lord promised us to be true. Have you found what your Lord promised to be true?" They will say, "Yes." Then an announcer will announce among them, "The curse of Allah shall be upon the wrongdoers."
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
ونادى أصحاب الجنة -بعد دخولهم فيها- أهلَ النار قائلين لهم: إنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا على ألسنة رسله حقًا من إثابة أهل طاعته، فهل وجدتم ما وعدكم ربكم على ألسنة رسله حقًا من عقاب أهل معصيته؟ فأجابهم أهل النار قائلين: نعم قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقًا. فأذَّن مؤذن بين أهل الجنة وأهل النار: أنْ لعنة الله على الظالمين الذين تجاوزوا حدود الله، وكفروا بالله ورسله.
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ كَٰفِرُونَ
Who averted [people] from the way of Allah and sought to make it [seem] deviant while they were, concerning the Hereafter, disbelievers.
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
هؤلاء الكافرون هم الذين كانوا يُعْرِضون عن طريق الله المستقيم، ويمنعون الناس من سلوكه، ويطلبون أن تكون السبيل معوجة حتى لا يتبينها أحد، وهم بالآخرة -وما فيها- جاحدون.
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌۭ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌۭ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
And between them will be a partition, and on [its] elevations are men who recognize all by their mark. And they call out to the companions of Paradise, "Peace be upon you." They have not [yet] entered it, but they long intensely.
ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
وبين أصحاب الجنة وأصحاب النار حاجز عظيم يقال له الأعراف، وعلى هذا الحاجز رجال يعرفون أهل الجنة وأهل النار بعلاماتهم، كبياض وجوه أهل الجنة، وسواد وجوه أهل النار، وهؤلاء الرجال قوم استوت حسناتهم وسيئاتهم يرجون رحمة الله تعالى. ونادى رجال الأعراف أهل الجنة بالتحية قائلين لهم: سلام عليكم، وأهل الأعراف لم يدخلوا الجنة بعد، وهم يرجون دخولها.
۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
And when their eyes are turned toward the companions of the Fire, they say, "Our Lord, do not place us with the wrongdoing people."
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
وإذا حُوِّلَتْ أبصار رجال الأعراف جهة أهل النار قالوا: ربنا لا تُصيِّرنا مع القوم الظالمين بشركهم وكفرهم.
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْأَعْرَافِ رِجَالًۭا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمْ قَالُوا۟ مَآ أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."
اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)
ونادى أهل الأعراف رجالا من قادة الكفار الذين في النار، يعرفونهم بعلامات خاصة تميزهم، قالوا لهم: ما نفعكم ما كنتم تجمعون من الأموال والرجال في الدنيا، وما نفعكم استعلاؤكم عن الإيمان بالله وقَبول الحق.
أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
[Allah will say], "Are these the ones whom you [inhabitants of Hell] swore that Allah would never offer them mercy? Enter Paradise, [O People of the Elevations]. No fear will there be concerning you, nor will you grieve."
(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا
أهؤلاء الضعفاء والفقراء من أهل الجنة الذين أقسمتم في الدنيا أن الله لا يشملهم يوم القيامة برحمة، ولن يدخلهم الجنة؟ ادخلوا الجنة يا أصحاب الأعراف فقد غُفِرَ لكم، لا خوف عليكم من عذاب الله، ولا أنتم تحزنون على ما فاتكم من حظوظ الدنيا.
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا۟ عَلَيْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
And the companions of the Fire will call to the companions of Paradise, "Pour upon us some water or from whatever Allah has provided you." They will say, "Indeed, Allah has forbidden them both to the disbelievers."
اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے
واستغاث أهل النار بأهل الجنة طالبين منهم أن يُفيضوا عليهم من الماء، أو مما رزقهم الله من الطعام، فأجابوهم بأن الله تعالى قد حَرَّم الشراب والطعام على الذين جحدوا توحيده، وكذَّبوا رسله.
ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَجْحَدُونَ
Who took their religion as distraction and amusement and whom the worldly life deluded." So today We will forget them just as they forgot the meeting of this Day of theirs and for having rejected Our verses.
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
الذين حَرَمهم الله تعالى من نعيم الآخرة هم الذين جعلوا الدين الذي أمرهم الله باتباعه باطلا ولهوًا، وخدعتهم الحياة الدنيا وشغلوا بزخارفها عن العمل للآخرة، فيوم القيامة ينساهم الله تعالى ويتركهم في العذاب الموجع، كما تركوا العمل للقاء يومهم هذا، ولكونهم بأدلة الله وبراهينه ينكرون مع علمهم بأنها حق.
وَلَقَدْ جِئْنَٰهُم بِكِتَٰبٍۢ فَصَّلْنَٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And We had certainly brought them a Book which We detailed by knowledge - as guidance and mercy to a people who believe.
اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
ولقد جئنا الكفار بقرآن أنزلناه عليك -أيها الرسول- بيَّنَّاه مشتملا على علم عظيم، هاديًا من الضلالة إلى الرشد ورحمة لقوم يؤمنون بالله ويعملون بشرعه. وخصَّهم دون غيرهم؛ لأنهم هم المنتفعون به.
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
Do they await except its result? The Day its result comes those who had ignored it before will say, "The messengers of our Lord had come with the truth, so are there [now] any intercessors to intercede for us or could we be sent back to do other than we used to do?" They will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
هل ينتظر الكفار إلا ما وُعِدوا به في القرآن من العقاب الذي يؤول إليه أمرهم؟ يوم يأتي ما يئول إليه الأمر من الحساب والثواب والعقاب يوم القيامة يقول الكفار الذين تركوا القرآن، وكفروا به في الحياة الدنيا: قد تبيَّن لنا الآن أنَّ رسل ربنا قد جاؤوا بالحق، ونصحوا لنا، فهل لنا من أصدقاء وشفعاء، فيشفعوا لنا عند ربنا، أو نعاد إلى الدنيا مرة أخرى فنعمل فيها بما يرضي الله عنا؟ قد خسروا أنفسهم بدخولهم النار وخلودهم فيها، وذهب عنهم ما كانوا يعبدونه من دون الله، ويفترونه في الدنيا مما يَعِدُهم به الشيطان.
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne. He covers the night with the day, [another night] chasing it rapidly; and [He created] the sun, the moon, and the stars, subjected by His command. Unquestionably, His is the creation and the command; blessed is Allah, Lord of the worlds.
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
إن ربكم -أيها الناس- هو الله الذي أوجد السموات والأرض من العدم في ستة أيام، ثم استوى -سبحانه- على العرش -أي علا وارتفع- استواءً يليق بجلاله وعظمته، يُدخل سبحانه الليل على النهار، فيلبسه إياه حتى يذهب نوره، ويُدخل النهار على الليل فيذهب ظلامه، وكل واحد منهما يطلب الآخر سريعًا دائمًا، وهو -سبحانه- الذي خلق الشمس والقمر والنجوم مذللات له يسخرهن -سبحانه- كما يشاء، وهنَّ من آيات الله العظيمة. ألا له سبحانه وتعالى الخلق كله وله الأمر كله، تعالى الله وتعاظم وتنزَّه عن كل نقص، رب الخلق أجمعين.
ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ
Call upon your Lord in humility and privately; indeed, He does not like transgressors.
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
ادعوا -أيها المؤمنون- ربكم متذللين له خفية وسرًّا، وليكن الدعاء بخشوع وبُعْدٍ عن الرياء. إن الله تعالى لا يحب المتجاوزين حدود شرعه، وأعظم التجاوز الشرك بالله، كدعاء غير الله من الأموات والأوثان، ونحو ذلك.
وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًۭا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
And cause not corruption upon the earth after its reformation. And invoke Him in fear and aspiration. Indeed, the mercy of Allah is near to the doers of good.
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
ولا تُفْسدوا في الأرض بأيِّ نوع من أنواع الفساد، بعد إصلاح الله إياها ببعثة الرسل -عليهم السلام- وعُمْرانها بطاعة الله، وادعوه -سبحانه- مخلصين له الدعاء؛ خوفًا من عقابه ورجاء لثوابه. إن رحمة الله قريب من المحسنين.
وَهُوَ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتْ سَحَابًۭا ثِقَالًۭا سُقْنَٰهُ لِبَلَدٍۢ مَّيِّتٍۢ فَأَنزَلْنَا بِهِ ٱلْمَآءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy until, when they have carried heavy rainclouds, We drive them to a dead land and We send down rain therein and bring forth thereby [some] of all the fruits. Thus will We bring forth the dead; perhaps you may be reminded.
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
والله تعالى هو الذي يرسل الرياح الطيبة اللينة مبشرات بالغيث الذي تثيره بإذن الله، فيستبشر الخلق برحمة الله، حتى إذا حملت الريح السحاب المحمل بالمطر ساقه الله بها لإحياء بلد، قد أجدبت أرضه، ويَبِست أشجاره وزرعه، فأنزل الله به المطر، فأخرج به الكلأ والأشجار والزروع، فعادت أشجاره محملة بأنواع الثمرات. كما نحيي هذا البلد الميت بالمطر نخرج الموتى من قبورهم أحياءً بعد فنائهم؛ لتتعظوا، فتستدلوا على توحيد الله وقدرته على البعث.
وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ
And the good land - its vegetation emerges by permission of its Lord; but that which is bad - nothing emerges except sparsely, with difficulty. Thus do We diversify the signs for a people who are grateful.
جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
والأرض النقية إذا نزل عليها المطر تُخْرج نباتًا -بإذن الله ومشيئته- طيبًا ميسرًا، وكذلك المؤمن إذا نزلت عليه آيات الله انتفع بها، وأثمرت فيه حياة صالحة، أما الأرض السَّبِخة الرديئة فإنها لا تُخرج النبات إلا عسرًا رديئا لا نفع فيه، ولا تُخرج نباتًا طيبًا، وكذلك الكافر لا ينتفع بآيات الله. مثل ذلك التنويع البديع في البيان نُنوِّع الحجج والبراهين لإثبات الحق لأناس يشكرون نعم الله، ويطيعونه.
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ
We had certainly sent Noah to his people, and he said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Indeed, I fear for you the punishment of a tremendous Day.
ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے
لقد بعثنا نوحًا إلى قومه؛ ليدعوهم إلى توحيد الله سبحانه وإخلاص العبادة له، فقال: يا قوم اعبدوا الله وحده، ليس لكم من إله يستحق العبادة غيره جل وعلا فأخلصوا له العبادة فإن لم تفعلوا وبقيتم على عبادة أوثانكم، فإنني أخاف أن يحلَّ عليكم عذاب يوم يعظم فيه بلاؤكم، وهو يوم القيامة.
قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ
Said the eminent among his people, "Indeed, we see you in clear error."
تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں
قال له سادتهم وكبراؤهم: إنا لنعتقد -يا نوح- أنك في ضلال بيِّن عن طريق الصواب.
قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَٰلَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
[Noah] said, "O my people, there is not error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds."
انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں
قال نوح: يا قوم لست ضالا في مسألة من المسائل بوجه من الوجوه، ولكني رسول من رب العالمين ربي وربكم ورب جميع الخلق.
أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
I convey to you the messages of my Lord and advise you; and I know from Allah what you do not know.
تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو
أُبلِّغكم ما أُرسلت به من ربي، وأنصح لكم محذرًا لكم من عذاب الله ومبشرًا بثوابه، وأعلم من شريعته ما لا تعلمون.
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you and that you may fear Allah so you might receive mercy."
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
وهل أثار عجبكم أن أنزل الله تعالى إليكم ما يذكركم بما فيه الخير لكم، على لسان رجل منكم، تعرفون نسبه وصدقه؛ ليخوِّفكم بأس الله تعالى وعقابه، ولتتقوا سخطه بالإيمان به، ورجاء أن تظفروا برحمته وجزيل ثوابه؟
فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ
But they denied him, so We saved him and those who were with him in the ship. And We drowned those who denied Our signs. Indeed, they were a blind people.
مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے
فكذبوا نوحًا فأنجيناه ومَن آمن معه في السفينة، وأغرقنا الكفار الذين كذبوا بحججنا الواضحة. إنهم كانوا عُمْيَ القلوب عن رؤية الحق.
۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
ولقد أرسلنا إلى قبيلة عاد أخاهم هودا حين عبدوا الأوثان من دون الله، فقال لهم: اعبدوا الله وحده، ليس لكم من إله يستحق العبادة غيره جل وعلا فأخلصوا له العبادة أفلا تتقون عذاب الله وسخطه عليكم؟
قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "Indeed, we see you in foolishness, and indeed, we think you are of the liars."
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
قال الكبراء الذين كفروا من قوم هود: إنا لنعلم أنك بدعوتك إيانا إلى ترك عبادة آلهتنا وعبادة الله وحده ناقص العقل، وإنا لنعتقد أنك من الكاذبين على الله فيما تقول.
قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
[Hud] said, "O my people, there is not foolishness in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds."
انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
قال هود: يا قوم ليس بي نقص في عقلي، ولكني رسول إليكم من رب الخلق أجمعين.
أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ
I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser.
میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں
أُبلِّغكم ما أرسلني به ربي إليكم، وأنا لكم - فيما دعوتكم إليه من توحيد الله والعمل بشريعته - ناصح، أمين على وحي الله تعالى.
أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Then do you wonder that there has come to you a reminder from your Lord through a man from among you, that he may warn you? And remember when He made you successors after the people of Noah and increased you in stature extensively. So remember the favors of Allah that you might succeed.
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو
وهل أثار عجبكم أن أنزل الله تعالى إليكم ما يذكركم بما فيه الخير لكم، على لسان رجل منكم، تعرفون نسبه وصدقه؛ ليخوِّفكم بأس الله وعقابه؟ واذكروا نعمة الله عليكم إذ جعلكم تخلفون في الأرض مَن قبلكم من بعد ما أهلك قوم نوح، وزاد في أجسامكم قوة وضخامة، فاذكروا نِعَمَ الله الكثيرة عليكم؛ رجاء أن تفوزوا الفوز العظيم في الدنيا والآخرة.
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
They said, "Have you come to us that we should worship Allah alone and leave what our fathers have worshipped? Then bring us what you promise us, if you should be of the truthful."
وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ
قالت عاد لهود عليه السلام: أدعوتنا لعبادة الله وحده وهَجْر عبادة الأصنام التي ورثنا عبادتها عن آبائنا؟ فأتنا بالعذاب الذي تخوفنا به إن كنت من أهل الصدق فيما تقول.
قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌۭ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍۢ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍۢ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
[Hud] said, "Already have defilement and anger fallen upon you from your Lord. Do you dispute with me concerning [mere] names you have named them, you and your fathers, for which Allah has not sent down any authority? Then wait; indeed, I am with you among those who wait."
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
قال هود لقومه: قد حلَّ بكم عذاب وغضب من ربكم جل وعلا أتجادلونني في هذه الأصنام التي سميتموها آلهة أنتم وآباؤكم؟ ما نزَّل الله بها من حجة ولا برهان؛ لأنها مخلوقة لا تضر ولا تنفع، وإنما المعبود وحده هو الخالق سبحانه، فانتظروا نزول العذاب عليكم فإني منتظر معكم نزوله، وهذا غاية في التهديد والوعيد.
فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍۢ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ
So We saved him and those with him by mercy from Us. And We eliminated those who denied Our signs, and they were not [at all] believers.
پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں
فوقع عذاب الله بإرسال الريح الشديدة عليهم، فأنجى الله هودًا والذين آمنوا معه برحمة عظيمة منه تعالى، وأهلك الكفار من قومه جميعا ودمَّرهم عن آخرهم، وما كانوا مؤمنين لجمعهم بين التكذيب بآيات الله وترك العمل الصالح.
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَٰلِحًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمْ ءَايَةًۭ ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِىٓ أَرْضِ ٱللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍۢ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ
And to the Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allah [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allah 's land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment.
اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ (تو) صالح نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آ چکا ہے۔ (یعنی) یہی خدا کی اونٹنی تمہارے لیے معجزہ ہے۔ تو اسے (آزاد) چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا۔ ورنہ عذابِ الیم میں تمہیں پکڑ لے گا
ولقد أرسلنا إلى قبيلة ثمود أخاهم صالحًا لـمَّا عبدوا الأوثان من دون الله تعالى. فقال صالح لهم: يا قوم اعبدوا الله وحده؛ ليس لكم من إله يستحق العبادة غيره جل وعلا، فأخلصوا له العبادة، قد جئتكم بالبرهان على صدق ما أدعوكم إليه، إذ دعوتُ الله أمامكم، فأخرج لكم من الصخرة ناقة عظيمة كما سألتم، فاتركوها تأكل في أرض الله من المراعي، ولا تتعرضوا لها بأي أذى، فيصيبكم بسبب ذلك عذاب موجع.
وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍۢ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًۭا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًۭا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
And remember when He made you successors after the 'Aad and settled you in the land, [and] you take for yourselves palaces from its plains and carve from the mountains, homes. Then remember the favors of Allah and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
واذكروا نعمة الله عليكم، إذ جعلكم تَخْلُفون في الأرض مَن قبلكم، من بعد قبيلة عاد، ومكَّن لكم في الأرض الطيبة تنزلونها، فتبنون في سهولها البيوت العظيمة، وتنحتون من جبالها بيوتًا أخرى، فاذكروا نِعَمَ الله عليكم، ولا تَسْعَوا في الأرض بالإفساد.
قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ
Said the eminent ones who were arrogant among his people to those who were oppressed - to those who believed among them, "Do you [actually] know that Salih is sent from his Lord?" They said, "Indeed we, in that with which he was sent, are believers."
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
قال السادة والكبراء من الذين استعلَوا -من قوم صالح- للمؤمنين الذين استضعفوهم، واستهانوا بهم: أتعلمون حقيقة أن صالحًا قد أرسله الله إلينا؟ قال الذين آمنوا: إنا مصدقون بما أرسله الله به، متَّبعون لشرعه.
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers."
تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
قال الذين استعلَوْا: إنَّا بالذي صدَّقتم به واتبعتموه من نبوة صالح جاحدون.
فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَٰصَٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
So they hamstrung the she-camel and were insolent toward the command of their Lord and said, "O Salih, bring us what you promise us, if you should be of the messengers."
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
فنحروا الناقة استخفافا منهم بوعيد صالح، واستكبروا عن امتثال أمر ربهم، وقالوا على سبيل الاستهزاء واستبعاد العذاب: يا صالح ائتنا بما تتوعَّدنا به من العذاب، إن كنت مِن رسل الله.
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
فأخذَت الذين كفروا الزلزلةُ الشديدة التي خلعت قلوبهم، فأصبحوا في بلدهم هالكين، لاصقين بالأرض على رُكَبهم ووجوههم، لم يُفْلِت منهم أحد.
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ
And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the message of my Lord and advised you, but you do not like advisors."
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
فأعرض صالح عليه السلام عن قومه -حين عقروا الناقة وحل بهم الهلاك- وقال لهم: يا قوم لقد أبلغتكم ما أمرني ربي بإبلاغه من أمره ونهيه، وبَذَلْت لكم وسعي في الترغيب والترهيب والنصح، ولكنكم لا تحبون الناصحين، فرددتم قولهم، وأطعتم كل شيطان رجيم.
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍۢ مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ
And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
واذكر -أيها الرسول- لوطًا عليه السلام حين قال لقومه: أتفعلون الفعلة المنكرة التي بلغت نهاية القبح؟ ما فعلها مِن أحد قبلكم من المخلوقين.
إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ
Indeed, you approach men with desire, instead of women. Rather, you are a transgressing people."
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
إنكم لتأتون الذكور في أدبارهم، شهوة منكم لذلك، غير مبالين بقبحها، تاركين الذي أحلَّه الله لكم من نسائكم، بل أنتم قوم متجاوزون لحدود الله في الإسراف. إن إتيان الذكور دون الإناث من الفواحش التي ابتدعها قوم لوط، ولم يسبقهم بها أحد من الخلق.
وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ
But the answer of his people was only that they said, "Evict them from your city! Indeed, they are men who keep themselves pure."
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
وما كان جواب قوم لوط حين أنكر عليهم فعلهم الشنيع إلا أن قال بعضهم لبعض: أخرجوا لوطًا وأهله من بلادكم، إنه ومن تبعه أناس يتنزهون عن إتيان أدبار الرجال والنساء.
فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ
So We saved him and his family, except for his wife; she was of those who remained [with the evildoers].
تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی
فأنجى الله لوطًا وأهله من العذاب حيث أمره بمغادرة ذلك البلد، إلا امرأته، فإنها كانت من الهالكين الباقين في عذاب الله.
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ
And We rained upon them a rain [of stones]. Then see how was the end of the criminals.
اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا
وعذَّب الله الكفار من قوم لوط بأن أنزل عليهم مطرًا من الحجارة، وقلب بلادهم، فجعل عاليها سافلها، فانظر -أيها الرسول- كيف صارت عاقبة الذين اجترؤوا على معاصي الله وكذبوا رسله.
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
And to [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu'ayb. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. So fulfill the measure and weight and do not deprive people of their due and cause not corruption upon the earth after its reformation. That is better for you, if you should be believers.
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
ولقد أرسلنا إلى قبيلة "مدين" أخاهم شعيبًا عليه السلام، فقال لهم: يا قوم اعبدوا الله وحده لا شريك له؛ ليس لكم مِن إله يستحق العبادة غيره جل وعلا فأخلصوا له العبادة، قد جاءكم برهان من ربكم على صِدْق ما أدعوكم إليه، فأدوا للناس حقوقهم بإيفاء الكيل والميزان، ولا تنقصوهم حقوقهم فتظلموهم، ولا تفسدوا في الأرض -بالكفر والظلم- بعد إصلاحها بشرائع الأنبياء السابقين عليهم السلام. ذلك الذي دعوتكم إليه خير لكم في دنياكم وأخراكم، إن كنتم مصدقيَّ فيما دعوتكم إليه، عاملين بشرع الله.
وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍۢ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًۭا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًۭا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
And do not sit on every path, threatening and averting from the way of Allah those who believe in Him, seeking to make it [seem] deviant. And remember when you were few and He increased you. And see how was the end of the corrupters.
اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا
ولا تقعدوا بكل طريق تتوعدون الناس بالقتل، إن لم يعطوكم أموالهم، وتصدُّون عن سبيل الله القويم من صدَّق به عز وجل، وعمل صالحًا، وتبغون سبيل الله أن تكون معوجة، وتميلونها اتباعًا لأهوائكم، وتنفِّرون الناس عن اتباعها. واذكروا نعمة الله تعالى عليكم إذ كان عددكم قليلا فكثَّركم، فأصبحتم أقوياء عزيزين، وانظروا كيف كان عاقبة المفسدين في الأرض، وما حلَّ بهم من الهلاك والدمار؟
وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌۭ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌۭ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
And if there should be a group among you who has believed in that with which I have been sent and a group that has not believed, then be patient until Allah judges between us. And He is the best of judges."
اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
وإن كان جماعة منكم صدَّقوا بالذي أرسلني الله به، وجماعة لم يصدِّقوا بذلك، فانتظروا أيها المكذبون قضاء الله الفاصل بيننا وبينكم حين يحلُّ عليكم عذابه الذي أنذرتكم به. والله -جلَّ وعلا- هو خير الحاكمين بين عباده.
۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَٰرِهِينَ
Said the eminent ones who were arrogant among his people, "We will surely evict you, O Shu'ayb, and those who have believed with you from our city, or you must return to our religion." He said, "Even if we were unwilling?"
(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)
قال السادة والكبراء من قوم شعيب الذين تكبروا عن الإيمان بالله واتباع رسوله شعيب عليه السلام: لنخرجنك يا شعيب ومَن معك من المؤمنين من ديارنا، إلا إذا صرتم إلى ديننا، قال شُعيب منكرًا ومتعجبًا من قولهم: أنتابعكم على دينكم ومِلَّتكم الباطلة، ولو كنا كارهين لها لعِلْمِنا ببطلانها؟
قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ
We would have invented against Allah a lie if we returned to your religion after Allah had saved us from it. And it is not for us to return to it except that Allah, our Lord, should will. Our Lord has encompassed all things in knowledge. Upon Allah we have relied. Our Lord, decide between us and our people in truth, and You are the best of those who give decision."
اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
وقال شعيب لقومه مستدركًا: قد اختلقنا على الله الكذب إن عُدْنا إلى دينكم بعد أن أنقذنا الله منه، وليس لنا أن نتحول إلى غير دين ربنا إلا أن يشاء الله ربنا، وقد وسع ربنا كل شيء علمًا، فيعلم ما يصلح للعباد، على الله وحده اعتمادنا هداية ونصرة، ربنا احكم بيننا وبين قومنا بالحق، وأنت خير الحاكمين.
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ
Said the eminent ones who disbelieved among his people, "If you should follow Shu'ayb, indeed, you would then be losers."
اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے
وقال السادة والكبراء المكذبون الرافضون لدعوة التوحيد إمعانًا في العتوِّ والتمرد، محذرين من اتباع شعيب: لئن اتبعتم شعيبًا إنكم إذًا لهالكون.
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
فأخذَتْ قومَ شعيب الزلزلةُ الشديدة، فأصبحوا في دارهم صرعى ميتين.
ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ
Those who denied Shu'ayb - it was as though they had never resided there. Those who denied Shu'ayb - it was they who were the losers.
(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے
الذين كذَّبوا شعيبًا كأنهم لم يقيموا في ديارهم، ولم يتمتعوا فيها، حيث استؤصلوا، فلم يبق لهم أثر، وأصابهم الخسران والهلاك في الدنيا والآخرة.
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَٰفِرِينَ
And he turned away from them and said, "O my people, I had certainly conveyed to you the messages of my Lord and advised you, so how could I grieve for a disbelieving people?"
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
فأعرض شعيب عنهم حينما أيقن بحلول العذاب بهم، وقال: يا قوم لقد أبلغتكم رسالات ربي، ونصحت لكم بالدخول في دين الله والإقلاع عما أنتم عليه، فلم تسمعوا ولم تطيعوا، فكيف أحزن على قوم جحدوا وحدانية الله وكذبوا رسله؟
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
And We sent to no city a prophet [who was denied] except that We seized its people with poverty and hardship that they might humble themselves [to Allah].
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
وما أرسلنا في قرية من نبي يدعوهم إلى عبادة الله، وينهاهم عمَّا هم فيه من الشرك، فكذَّبه قومه، إلا ابتليناهم بالبأساء والضراء، فأصبناهم في أبدانهم بالأمراض والأسقام، وفي أموالهم بالفقر والحاجة؛ رجاء أن يستكينوا، وينيبوا إلى الله، ويرجعوا إلى الحق.
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
Then We exchanged in place of the bad [condition], good, until they increased [and prospered] and said, "Our fathers [also] were touched with hardship and ease." So We seized them suddenly while they did not perceive.
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
ثم بدَّلنا الحالة الطيبة الأولى مكان الحالة السيئة، فأصبحوا في عافية في أبدانهم، وسَعَة ورخاء في أموالهم؛ إمهالا لهم، ولعلهم يشكرون، فلم يُفِد معهم كل ذلك، ولم يعتبروا ولم ينتهوا عمَّا هم فيه، وقالوا: هذه عادة الدهر في أهله، يوم خير ويوم شر، وهو ما جرى لآبائنا من قبل، فأخذناهم بالعذاب فجأة وهم آمنون، لا يخطر لهم الهلاك على بال.
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
And if only the people of the cities had believed and feared Allah, We would have opened upon them blessings from the heaven and the earth; but they denied [the messengers], so We seized them for what they were earning."
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
ولو أنَّ أهل القرى صدَّقوا رسلهم واتبعوهم واجتنبوا ما نهاهم الله عنه، لفتح الله لهم أبواب الخير من كلِّ وجه، ولكنهم كذَّبوا، فعاقبهم الله بالعذاب المهلك بسبب كفرهم ومعاصيهم.
أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ
Then, did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them at night while they were asleep?
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
أيظن أهل القرى أنهم في منجاة ومأمن من عذاب الله، أن يأتيهم ليلا وهم نائمون؟
أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
Or did the people of the cities feel secure from Our punishment coming to them in the morning while they were at play?
اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں
أوَأمن أهل القرى أن يأتيهم عذاب الله وقت الضحى، وهم غافلون متشاغلون بأمور دنياهم؟ وخصَّ الله هذين الوقتين بالذكر، لأن الإنسان يكون أغْفَل ما يكون فيهما، فمجيء العذاب فيهما أفظع وأشد.
أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Then did they feel secure from the plan of Allah? But no one feels secure from the plan of Allah except the losing people.
کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
أفأمن أهل القرى المكذبة مَكْرَ الله وإمهاله لهم؛ استدراجًا لهم بما أنعم عليهم في دنياهم عقوبة لمكرهم؟ فلا يأمن مكر الله إلا القوم الهالكون.
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.
کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں
أوَلم يتبين للذين سكنوا الأرض من بعد إهلاك أهلها السابقين بسبب معاصيهم، فساروا سيرتهم، أن لو نشاء أصبناهم بسبب ذنوبهم كما فعلنا بأسلافهم، ونختم على قلوبهم، فلا يدخلها الحق، ولا يسمعون موعظة ولا تذكيرًا؟
تِلْكَ ٱلْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآئِهَا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْكَٰفِرِينَ
Those cities - We relate to you, [O Muhammad], some of their news. And certainly did their messengers come to them with clear proofs, but they were not to believe in that which they had denied before. Thus does Allah seal over the hearts of the disbelievers.
یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
تلك القرى التي تَقَدَّم ذِكْرُها، وهي قرى قوم نوح وهود وصالح ولوط وشعيب، نقصُّ عليك -أيها الرسول- من أخبارها، وما كان من أَمْر رسل الله التي أرسلت إليهم، ما يحصل به عبرة للمعتبرين وازدجار للظالمين. ولقد جاءت أهلَ القرى رسلنا بالحجج البينات على صدقهم، فما كانوا ليؤمنوا بما جاءتهم به الرسل؛ بسبب طغيانهم وتكذيبهم بالحق، ومثل خَتْمِ الله على قلوب هؤلاء الكافرين المذكورين يختم الله على قلوب الكافرين بمحمد صلى الله عليه وسلم.
وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍۢ ۖ وَإِن وَجَدْنَآ أَكْثَرَهُمْ لَفَٰسِقِينَ
And We did not find for most of them any covenant; but indeed, We found most of them defiantly disobedient.
اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا
وما وَجَدْنا لأكثر الأم الماضية من أمانة ولا وفاء بالعهد، وما وجدنا أكثرهم إلا فسقة عن طاعة الله وامتثال أمره.
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَظَلَمُوا۟ بِهَا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ
Then We sent after them Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, but they were unjust toward them. So see how was the end of the corrupters.
پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا
ثم بعثنا من بعد الرسل المتقدم ذِكْرهم موسى بن عمران بمعجزاتنا البينة إلى فرعون وقومه، فجحدوا وكفروا بها ظلمًا منهم وعنادًا، فانظر -أيها الرسول- متبصرًا كيف فعلنا بهم وأغرقناهم عن آخرهم بمرأى من موسى وقومه؟ وتلك نهاية المفسدين.
وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰفِرْعَوْنُ إِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
And Moses said, "O Pharaoh, I am a messenger from the Lord of the worlds
اور موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں
وقال موسى لفرعون محاورًا مبلِّغًا: إني رسولٌ من الله خالق الخلق أجمعين، ومدبِّر أحوالهم ومآلهم.
حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِىَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
[Who is] obligated not to say about Allah except the truth. I have come to you with clear evidence from your Lord, so send with me the Children of Israel."
مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے
جدير بأن لا أقول على الله إلا الحق، وحريٌّ بي أن ألتزمه، قد جئتكم ببرهان وحجة باهرة من ربكم على صِدْق ما أذكره لكم، فأطلق -يا فرعون- معي بني إسرائيل مِن أَسْرك وقَهْرك، وخلِّ سبيلهم لعبادة الله.
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِـَٔايَةٍۢ فَأْتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
[Pharaoh] said, "If you have come with a sign, then bring it forth, if you should be of the truthful."
فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ)
قال فرعرن لموسى: إن كنتَ جئتَ بآية حسب زعمك فأتني بها، وأحضرها عندي؛ لتصحَّ دعواك ويثبت صدقك، إن كنت صادقًا فيما ادَّعيت أنك رسول رب العالمين.
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌۭ مُّبِينٌۭ
So Moses threw his staff, and suddenly it was a serpent, manifest.
موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا)
فألقى موسى عصاه، فتحولت حيَّة عظيمة ظاهرة للعيان.
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ
And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.
اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)
وجذب يده من جيبه أو من جناحه فإذا هي بيضاء كاللبن من غير برص آية لفرعون، فإذا ردَّها عادت إلى لونها الأول، كسائر بدنه.
قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌۭ
Said the eminent among the people of Pharaoh, "Indeed, this is a learned magician
تو قوم فرعون میں جو سردار تھے وہ کہنے لگے کہ یہ بڑا علامہ جادوگر ہے
قال الأشراف من قوم فرعون: إن موسى لساحر يأخذ بأعين الناس بخداعه إياهم، حتى يخيل إليهم أن العصا حية، والشيء بخلاف ما هو عليه، وهو واسع العلم بالسحر ماهر به.
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
Who wants to expel you from your land [through magic], so what do you instruct?"
اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
يريد أن يخرجكم جميعًا من أرضكم، قال فرعون: فبماذا تشيرون عليَّ أيها الملأ في أمر موسى؟
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
They said, "Postpone [the matter of] him and his brother and send among the cities gatherers
انہوں نے (فرعون سے) کہا کہ فی الحال موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے اور شہروں میں نقیب روانہ کر دیجیے
قال مَن حضر مناظرة موسى مِن سادة قوم فرعون وكبرائهم: أَخِّر موسى وأخاه هارون، وابعث في مدائن "مصر" وأقاليمها الشُّرَط.
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٍۢ
Who will bring you every learned magician."
کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں
ليجمعوا لك كل ساحر واسع العلم بالسحر.
وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوٓا۟ إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ ٱلْغَٰلِبِينَ
And the magicians came to Pharaoh. They said, "Indeed for us is a reward if we are the predominant."
(چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے اور کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں صلہ عطا کیا جائے
وجاء السحرة فرعون قالوا: أئنَّ لنا لجائزة ومالا إن غَلَبْنا موسى؟
قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ
He said, "Yes, and, [moreover], you will be among those made near [to me]."
(فرعون نے) کہا ہاں (ضرور) اور (اس کے علاوہ) تم مقربوں میں داخل کرلیے جاؤ گے
قال فرعون: نعم لكم الأجر والقرب مني إن غَلَبْتُموه.
قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ
They said, "O Moses, either you throw [your staff], or we will be the ones to throw [first]."
(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں
قال سحرة فرعون لموسى على سبيل التكبر وعدم المبالاة: يا موسى اختر أن تُلقي عصاك أولا أو نُلقي نحن أولا.
قَالَ أَلْقُوا۟ ۖ فَلَمَّآ أَلْقَوْا۟ سَحَرُوٓا۟ أَعْيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَآءُو بِسِحْرٍ عَظِيمٍۢ
He said, "Throw," and when they threw, they bewitched the eyes of the people and struck terror into them, and they presented a great [feat of] magic.
(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا
قال موسى للسحرة: ألقوا أنتم، فلما ألقَوا الحبال والعصيَّ سحروا أعين الناس، فخُيِّل إلى الأبصار أن ما فعلوه حقيقة، ولم يكن إلا مجرد صنعة وخيال، وأرهبوا الناس إرهابًا شديدًا، وجاؤوا بسحر قوي كثير.
۞ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ
And We inspired to Moses, "Throw your staff," and at once it devoured what they were falsifying.
(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی
وأوحى الله إلى عبده ورسوله موسى عليه السلام في ذلك الموقف العظيم الذي فرَّق الله فيه بين الحق والباطل، يأمره بأن يُلقي ما في يمينه وهي عصاه، فألقاها فإذا هي تبلع ما يلقونه، ويوهمون الناس أنه حق وهو باطل.
فَوَقَعَ ٱلْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
So the truth was established, and abolished was what they were doing.
(پھر) تو حق ثابت ہوگیا اور جو کچھ فرعونی کرتے تھے، باطل ہوگیا
فظهر الحق واستبان لمن شهده وحضره في أمر موسى عليه السلام، وأنه رسول الله يدعو إلى الحق، وبطل الكذب الذي كانوا يعملونه.
فَغُلِبُوا۟ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُوا۟ صَٰغِرِينَ
And Pharaoh and his people were overcome right there and became debased.
اور وہ مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہوکر رہ گئے
فغُلِبَ جميع السحرة في مكان اجتماعهم، وانصرف فرعون وقومه أذلاء مقهورين مغلوبين.
وَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
And the magicians fell down in prostration [to Allah].
(یہ کیفیت دیکھ کر) جادوگر سجدے میں گر پڑے
وخَرَّ السحرة سُجَّدًا على وجوههم لله رب العالمين لِمَا عاينوا من عظيم قدرة الله.
قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
They said, "We have believed in the Lord of the worlds,
اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے
قالوا: آمنا برب العالمين.
رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
The Lord of Moses and Aaron."
یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
وهو رب موسى وهارون، وهو الذي يجب أن تصرف له العبادة وحده دون مَن سواه.
قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
Said Pharaoh, "You believed in him before I gave you permission. Indeed, this is a conspiracy which you conspired in the city to expel therefrom its people. But you are going to know.
فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے
قال فرعون للسحرة: آمنتم بالله قبل أن آذن لكم بالإيمان به؟ إن إيمانكم بالله وتصديقكم لموسى وإقراركم بنبوته لحيلة احتلتموها أنتم وموسى؛ لتخرجوا أهل مدينتكم منها، وتكونوا المستأثرين بخيراتها، فسوف تعلمون -أيها السحرة- ما يحلُّ بكم من العذاب والنكال.
لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all."
میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا
لأقطعنَّ أيديكم وأرجلكم -أيها السحرة- من خلاف: بقطع اليد اليمنى والرجل اليسرى، أو اليد اليسرى والرجل اليمنى، ثم لأعلقنَّكم جميعًا على جذوع النخل؛ تنكيلا بكم وإرهابًا للناس.
قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
They said, "Indeed, to our Lord we will return.
وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
قال السحرة لفرعون: قد تحققنا أنَّا إلى الله راجعون، وأن عذابه أشد من عذابك، فلنصبرنَّ اليوم على عذابك؛ لِننجو من عذاب الله يوم القيامة.
وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
And you do not resent us except because we believed in the signs of our Lord when they came to us. Our Lord, pour upon us patience and let us die as Muslims [in submission to You]."
اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
ولستَ تعيب منا وتنكر -يا فرعون- إلا إيماننا وتصديقنا بحجج ربنا وأدلته التي جاء بها موسى ولا تقدر على مثلها أنت ولا أحد آخر سوى الله الذي له ملك السموات والأرض، ربنا أَفِضْ علينا صبرًا عظيمًا وثباتا عليه، وتوفَّنا منقادين لأمرك متبعين رسولك.
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ
And the eminent among the people of Pharaoh said," Will you leave Moses and his people to cause corruption in the land and abandon you and your gods?" [Pharaoh] said, "We will kill their sons and keep their women alive; and indeed, we are subjugators over them."
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
وقال السادة والكبراء من قوم فرعون لفرعون: أَتَدَعُ موسى وقومه من بني إسرائيل ليفسدوا الناس في أرض "مصر" بتغيير دينهم بعبادة الله وحده لا شريك له، وترك عبادتك وعبادة آلهتك؟ قال فرعون: سنُقَتِّل أبناء بني إسرائيل ونستبقي نساءهم أحياء للخدمة، وإنَّا عالون عليهم بقهر المُلْكِ والسلطان.
قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
Said Moses to his people, "Seek help through Allah and be patient. Indeed, the earth belongs to Allah. He causes to inherit it whom He wills of His servants. And the [best] outcome is for the righteous."
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
قال موسى لقومه -من بني إسرائيل-: استعينوا بالله على فرعون وقومه، واصبروا على ما نالكم من فرعون من المكاره في أنفسكم وأبنائكم. إن الأرض كلها لله يورثها من يشاء من عباده، والعاقبة المحمودة لمن اتقى الله ففعل أوامره واجتنب نواهيه.
قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
They said, "We have been harmed before you came to us and after you have come to us." He said, "Perhaps your Lord will destroy your enemy and grant you succession in the land and see how you will do."
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
قال قوم موسى -من بني إسرائيل- لنبيهم موسى: ابتُلينا وأُوذينا بذبح أبنائنا واستحياء نسائنا على يد فرعون وقومه، من قبل أن تأتينا، ومن بعد ما جئتنا، قال موسى لهم: لعل ربكم أن يهلك عدوكم فرعون وقومه، ويستخلفكم في أرضهم بعد هلاكهم، فينظر كيف تعملون، هل تشكرون أو تكفرون؟
وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
And We certainly seized the people of Pharaoh with years of famine and a deficiency in fruits that perhaps they would be reminded.
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
ولقد ابتلينا فرعون وقومه بالقحط والجدب، ونَقْص ثمارهم وغَلاتهم؛ ليتذكروا، وينزجروا عن ضلالاتهم، ويفزعوا إلى ربهم بالتوبة.
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
But when good came to them, they said, "This is ours [by right]." And if a bad [condition] struck them, they saw an evil omen in Moses and those with him. Unquestionably, their fortune is with Allah, but most of them do not know.
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
فإذا جاء فرعونَ وقومَه الخِصْبُ والرزقُ قالوا: هذا لنا بما نستحقه، وإن يُصِبْهم جدب وقحط يتشاءموا، ويقولوا: هذا بسبب موسى ومَن معه. ألا إنَّ ما يصيبهم من الجدب والقحط إنما هو بقضاء الله وقدره، وبسبب ذنوبهم وكفرهم، ولكن أكثر قوم فرعون لا يعلمون ذلك؛ لانغمارهم في الجهل والضلال.
وَقَالُوا۟ مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِۦ مِنْ ءَايَةٍۢ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
And they said, "No matter what sign you bring us with which to bewitch us, we will not be believers in you."
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
وقال قوم فرعون لموسى: أي آية تأتِنا بها، ودلالة وحجة أقمتها لتصرفنا عما نحن عليه من دين فرعون، فما نحن لك بمصدِّقين.
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٍۢ مُّفَصَّلَٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ
So We sent upon them the flood and locusts and lice and frogs and blood as distinct signs, but they were arrogant and were a criminal people.
تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں۔ مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار
فأرسلنا عليهم سيلا جارفًا أغرق الزروع والثمار، وأرسلنا الجراد، فأكل زروعهم وثمارهم وأبوابهم وسقوفهم وثيابهم، وأرسلنا القُمَّل الذي يفسد الثمار ويقضي على الحيوان والنبات، وأرسلنا الضفادع فملأت آنيتهم وأطعمتهم ومضاجعهم، وأرسلنا أيضًا الدم فصارت أنهارهم وآبارهم دمًا، ولم يجدوا ماء صالحًا للشرب، هذه آيات من آيات الله لا يقدر عليها غيره، مفرقات بعضها عن بعض، ومع كل هذا ترفَّع قوم فرعون، فاستكبروا عن الإيمان بالله، وكانوا قومًا يعملون بما ينهى الله عنه من المعاصي والفسق عتوًّا وتمردًا.
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ ٱلرِّجْزُ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفْتَ عَنَّا ٱلرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
And when the punishment descended upon them, they said, "O Moses, invoke for us your Lord by what He has promised you. If you [can] remove the punishment from us, we will surely believe you, and we will send with you the Children of Israel."
اور جب ان پر عذاب واقع ہوتا تو کہتے کہ موسیٰ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کرو۔ جیسا اس نے تم سے عہد کر رکھا ہے۔ اگر تم ہم سے عذاب کو ٹال دو گے تو ہم تم پر ایمان بھی لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی تمہارے ساتھ جانے (کی اجازت) دیں گے
ولما نزل العذاب على فرعون وقومه فزعوا إلى موسى وقالوا: يا موسى ادع لنا ربك بما أوحى به إليك مِن رَفْع العذاب بالتوبة، لئن رفعت عنا العذاب الذي نحن فيه لنصدِّقنَّ بما جئت به، ونتبع ما دعوت إليه، ولنطلقنَّ معك بني إسرائيل، فلا نمنعهم من أن يذهبوا حيث شاؤوا.
فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ ٱلرِّجْزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ
But when We removed the punishment from them until a term which they were to reach, then at once they broke their word.
پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے تو وہ عہد کو توڑ ڈالتے
فلما رفع الله عنهم العذاب الذى أنزله بهم إلى أجلٍ هم بالغوه لا محالة فيعذبون فيه، لا ينفعهم ما تقدَّم لهم من الإمهال وكَشْفِ العذاب إلى حلوله، إذا هم ينقضون عهودهم التي عاهدوا عليها ربهم وموسى، ويقيمون على كفرهم وضلالهم.
فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ
So We took retribution from them, and We drowned them in the sea because they denied Our signs and were heedless of them.
تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں ڈبو دیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بےپروائی کرتے تھے
فانتقمنا منهم حين جاء الأجل المحدد لإهلاكهم، وذلك بإحلال نقمتنا عليهم، وهي إغراقهم في البحر؛ بسبب تكذيبهم بالمعجزات التي ظهرت على يد موسى، وكانوا عن هذه المعجزات غافلين، وتلك الغفلة هي سبب التكذيب.
وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ
And We caused the people who had been oppressed to inherit the eastern regions of the land and the western ones, which We had blessed. And the good word of your Lord was fulfilled for the Children of Israel because of what they had patiently endured. And We destroyed [all] that Pharaoh and his people were producing and what they had been building.
اور جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے ان کو زمین (شام) کے مشرق ومغرب کا جس میں ہم نے برکت دی تھی وارث کردیا اور بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے صبر کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا وعدہٴ نیک پورا ہوا اور فرعون اور قوم فرعون جو (محل) بناتے اور (انگور کے باغ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ کردیا
وأررثنا بني إسرائيل الذين كانوا يُستَذَلُّون للخدمة، مشارق الأرض ومغاربها (وهي بلاد "الشام") التي باركنا فيها، بإخراج الزروع والثمار والأنهار، وتمت كلمة ربك -أيها الرسول- الحسنى على بني إسرائيل بالتمكين لهم في الأرض؛ بسبب صبرهم على أذى فرعون وقومه، ودمَّرنا ما كان يصنع فرعون وقومه من العمارات والمزارع، وما كانوا يبنون من الأبنية والقصور وغير ذلك.
وَجَٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍۢ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍۢ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَٰهًۭا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ تَجْهَلُونَ
And We took the Children of Israel across the sea; then they came upon a people intent in devotion to [some] idols of theirs. They said, "O Moses, make for us a god just as they have gods." He said, "Indeed, you are a people behaving ignorantly.
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
وقطعنا ببني إسرائيل البحر، فمرُّوا على قوم يقيمون ويواظبون على عبادة أصنام لهم، قال بنو إسرائيل: اجعل لنا يا موسى صنمًا نعبده ونتخذه إلهًا، كما لهؤلاء القوم أصنام يعبدونها، قال موسى لهم: إنكم أيها القوم تجهلون عظمة الله، ولا تعلمون أن العبادة لا تنبغي إلا لله الواحد القهار.
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Indeed, those [worshippers] - destroyed is that in which they are [engaged], and worthless is whatever they were doing."
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
إن هؤلاء المقيمين على هذه الأصنام مُهْلَك ما هم فيه من الشرك، ومدمَّر وباطل ما كانوا يعملون من عبادتهم لتلك الأصنام، التي لا تدفع عنهم عذاب الله إذا نزل بهم.
قَالَ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًۭا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
He said, "Is it other than Allah I should desire for you as a god while He has preferred you over the worlds?"
(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے
قال موسى لقومه: أغير الله أطلب لكم معبودًا تعبدونه من دونه، والله هو الذي خلقكم، وفضَّلكم على عالمي زمانكم بكثرة الأنبياء فيكم، وإهلاك عدوكم وما خصَّكم به من الآيات؟
وَإِذْ أَنجَيْنَٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ
And [recall, O Children of Israel], when We saved you from the people of Pharaoh, [who were] afflicting you with the worst torment - killing your sons and keeping your women alive. And in that was a great trial from your Lord.
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
واذكروا - يا بني إسرائيل - نِعَمنا عليكم إذ أنقذناكم من أَسْر فرعون وآله، وما كنتم فيه من الهوان والذلة من تذبيح أبنائكم واستبقاء نسائكم للخدمة، وفي حَمْلِكم على أقبح العذاب وأسوئه، ثم إنجائكم، اختبار من الله لكم ونعمة عظيمة.
۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَٰهَا بِعَشْرٍۢ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ
And We made an appointment with Moses for thirty nights and perfected them by [the addition of] ten; so the term of his Lord was completed as forty nights. And Moses said to his brother Aaron, "Take my place among my people, do right [by them], and do not follow the way of the corrupters."
اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ اور اس دس (راتیں) اور ملا کر اسے پورا (چلّہ) کردیا تو اس کے پروردگار کی چالیس رات کی میعاد پوری ہوگئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میرے (کوہِٰ طور پر جانے کے) بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو (ان کی) اصلاح کرتے رہنا ٹھیک اور شریروں کے رستے نہ چلنا
وواعد الله سبحانه وتعالى موسى لمناجاة ربه ثلاثين ليلة، ثم زاده في الأجل بعد ذلك عشر ليال، فتمَّ ما وَقَّتَه الله لموسى لتكليمه أربعين ليلة. وقال موسى لأخيه هارون -حين أراد المضيَّ لمناجاة ربه-: كن خليفتي في قومي حتى أرجع، وأحمِلَهم على طاعة الله وعبادته، ولا تسلكْ طريق الذين يفسدون في الأرض.
وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
And when Moses arrived at Our appointed time and his Lord spoke to him, he said, "My Lord, show me [Yourself] that I may look at You." [Allah] said, "You will not see Me, but look at the mountain; if it should remain in place, then you will see Me." But when his Lord appeared to the mountain, He rendered it level, and Moses fell unconscious. And when he awoke, he said, "Exalted are You! I have repented to You, and I am the first of the believers."
اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر (کوہ طور) پر پہنچے اور ان کے پروردگار نے ان سے کلام کیا تو کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے (جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار (بھی) دیکھوں۔ پروردگار نے کہا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو اگر یہ اپنی جگہ قائم رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ جب ان کا پروردگار پہاڑ پر نمودار ہوا تو (تجلی انوارِ ربانی) نے اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے کہ تیری ذات پاک ہے اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور جو ایمان لانے والے ہیں ان میں سب سے اول ہوں
ولما جاء موسى في الوقت المحدد وهو تمام أربعين ليلة، وكلَّمه ربه بما كلَّمه من وحيه وأمره ونهيه، طمع في رؤية الله فطلب النظر إليه، قال الله له: لن تراني، أي لن تقدر على رؤيتي في الدنيا، ولكن انظر إلى الجبل، فإن استقر مكانه إذا تجلَّيتُ له فسوف تراني، فلما تجلَّى ربه للجبل جعله دكًّا مستويًا بالأرض، وسقط موسى مغشيًّا عليه، فلما أفاق من غشيته قال: تنزيهًا لك يا رب عما لا يليق بجلالك، إني تبت إليك من مسألتي إياك الرؤية في هذه الحياة الدنيا، وأنا أول المؤمنين بك من قومي.
قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِى وَبِكَلَٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
[Allah] said, "O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful."
(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ
قال الله يا موسى: إني اخترتك على الناس برسالاتي إلى خلقي الذين أرسلتك إليهم وبكلامي إياك مِن غير وساطة، فخذ ما أعطيتك مِن أمري ونهيي، وتمسَّك به، واعمل به، وكن من الشاكرين لله تعالى على ما آتاك من رسالته، وخصَّك بكلامه.
وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَٰسِقِينَ
And We wrote for him on the tablets [something] of all things - instruction and explanation for all things, [saying], "Take them with determination and order your people to take the best of it. I will show you the home of the defiantly disobedient."
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
وكتبنا لموسى في التوراة من كل ما يحتاج إليه في دينه من الأحكام، موعظة للازدجار والاعتبار وتفصيلا لتكاليف الحلال والحرام والأمر والنهي والقصص والعقائد والأخبار والمغيبات، قال الله له: فخذها بقوة، أي: خذ التوراة بجد واجتهاد، وأمر قومك يعملوا بما شرع الله فيها؛ فإن مَن أشرك منهم ومِن غيرهم فإني سأريه في الآخرة دار الفاسقين، وهي نار الله التي أعدَّها لأعدائه الخارجين عن طاعته.
سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْا۟ كُلَّ ءَايَةٍۢ لَّا يُؤْمِنُوا۟ بِهَا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْا۟ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَٰفِلِينَ
I will turn away from My signs those who are arrogant upon the earth without right; and if they should see every sign, they will not believe in it. And if they see the way of consciousness, they will not adopt it as a way; but if they see the way of error, they will adopt it as a way. That is because they have denied Our signs and they were heedless of them.
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
سأصرف عن فَهْم الحجج والأدلة الدالة على عظمتي وشريعتي وأحكامي قلوب المتكبرين عن طاعتي، والمتكبرين على الناس بغير الحق، فلا يتبعون نبيًا ولا يصغون إليه لتكبرهم، وإنْ يَرَ هؤلاء المتكبرون عن الإيمان كل آية لا يؤمنوا بها لإعراضهم ومحادَّتهم لله ورسوله، وإن يروا طريق الصلاح لا يتخذوه طريقًا، وإن يروا طريق الضلال، أي الكفر يتخذوه طريقًا ودينًا؛ وذلك بسبب تكذيبهم بآيات الله وغفلتهم عن النظر فيها والتفكر في دلالاتها.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْءَاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
Those who denied Our signs and the meeting of the Hereafter - their deeds have become worthless. Are they recompensed except for what they used to do?
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
والذين كذَّبوا بآيات الله وحججه وبلقاء الله في الآخرة حبطت أعمالهم؛ بسبب فَقْدِ شرطها، وهو الإيمان بالله والتصديق بجزائه، ما يجزون في الآخرة إلا جزاء ما كانوا يعملونه في الدنيا من الكفر والمعاصي، وهو الخلود في النار.
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَٰلِمِينَ
And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
واتخذ قوم موسى من بعد ما فارقهم ماضيًا لمناجاة ربه معبودًا مِن ذهبهم عِجلا جسدًا بلا روح، له صوت، ألم يعلموا أنه لا يكلمهم، ولا يرشدهم إلى خير؟ أَقْدَمُوا على ما أقدموا عليه من هذا الأمر الشنيع، وكانوا ظالمين لأنفسهم واضعين الشيء في غير موضعه.
وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا۟ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا۟ قَالُوا۟ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ
And when regret overcame them and they saw that they had gone astray, they said, "If our Lord does not have mercy upon us and forgive us, we will surely be among the losers."
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
ولما ندم الذين عبدوا العجل مِن دون الله عند رجوع موسى إليهم، ورأوا أنهم قد ضلُّوا عن قصد السبيل، وذهبوا عن دين الله، أخذوا في الإقرار بالعبودية والاستغفار، فقالوا: لئن لم يرحمنا ربنا بقَبول توبتنا، ويستر بها ذنوبنا، لنكونن من الهالكين الذين ذهبت أعمالهم.
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنۢ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُوا۟ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
And when Moses returned to his people, angry and grieved, he said, "How wretched is that by which you have replaced me after [my departure]. Were you impatient over the matter of your Lord?" And he threw down the tablets and seized his brother by [the hair of] his head, pulling him toward him. [Aaron] said, "O son of my mother, indeed the people oppressed me and were about to kill me, so let not the enemies rejoice over me and do not place me among the wrongdoing people."
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
ولما رجع موسى إلى قومه مِن بني إسرائيل غضبان حزينًا؛ لأن الله قد أخبره أنه قد فُتِن قومه، وأن السامريَّ قد أضلَّهم، قال موسى: بئس الخلافة التي خلفتموني مِن بعدي، أعجلتم أَمْر ربكم؟ أي: أستعجلتم مجيئي إليكم وهو مقدَّر من الله تعالى؟ وألقى موسى ألواح التوراة غضبا على قومه الذين عبدوا العجل، وغضبًا على أخيه هارون، وأمسك برأس أخيه يجره إليه، قال هارون مستعطفًا: يا ابن أمي: إن القوم استذلوني وعدُّوني ضعيفًا وقاربوا أن يقتلوني، فلا تَسرَّ الأعداء بما تفعل بي، ولا تجعلني في غضبك مع القوم الذين خالفوا أمرك وعبدوا العجل.
قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ
[Moses] said, "My Lord, forgive me and my brother and admit us into Your mercy, for You are the most merciful of the merciful."
تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
قال موسى لما تبين له عذر أخيه، وعلم أنه لم يُفَرِّط فيما كان عليه من أمر الله: ربِّ اغفر لي غضبي، واغفر لأخي ما سبق بينه وبين بني إسرائيل، وأدخلنا في رحمتك الواسعة، فإنك أرحم بنا من كل راحم.
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ
Indeed, those who took the calf [for worship] will obtain anger from their Lord and humiliation in the life of this world, and thus do We recompense the inventors [of falsehood].
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
إن الذين اتخذوا العجل إلهًا سينالهم غضب شديد مِن ربهم وهوان في الحياة الدنيا؛ بسبب كفرهم بربهم، وكما فعلنا بهؤلاء نفعل بالمفترين المبتدعين في دين الله، فكل صاحب بدعة ذليل.
وَٱلَّذِينَ عَمِلُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُوا۟ مِنۢ بَعْدِهَا وَءَامَنُوٓا۟ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعْدِهَا لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
But those who committed misdeeds and then repented after them and believed - indeed your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful.
اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے
والذين عملوا السيئات من الكفر والمعاصي، ثم رجعوا مِن بعد فعلها إلى الإيمان والعمل الصالح، إن ربك من بعد التوبة النصوح لغفور لأعمالهم غير فاضحهم بها، رحيم بهم وبكل مَن كان مثلهم من التائبين.
وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلْغَضَبُ أَخَذَ ٱلْأَلْوَاحَ ۖ وَفِى نُسْخَتِهَا هُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
And when the anger subsided in Moses, he took up the tablets; and in their inscription was guidance and mercy for those who are fearful of their Lord.
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی
ولما سكن عن موسى غضبه أخذ الألواح بعد أن ألقاها على الأرض، وفيها بيان للحق ورحمة للذين يخافون الله، ويخشون عقابه.
وَٱخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُۥ سَبْعِينَ رَجُلًۭا لِّمِيقَٰتِنَا ۖ فَلَمَّآ أَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُم مِّن قَبْلُ وَإِيَّٰىَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآ ۖ إِنْ هِىَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهْدِى مَن تَشَآءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا ۖ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْغَٰفِرِينَ
And Moses chose from his people seventy men for Our appointment. And when the earthquake seized them, he said, "My Lord, if You had willed, You could have destroyed them before and me [as well]. Would You destroy us for what the foolish among us have done? This is not but Your trial by which You send astray whom You will and guide whom You will. You are our Protector, so forgive us and have mercy upon us; and You are the best of forgivers.
اور موسیٰ نے اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کرکے کوہ طور پر حاضر) ٹل کیے۔ جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو موسیٰ نے کہا کہ اے پروردگار تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کر دیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کردے گا۔ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے
واختار موسى من قومه سبعين رجلا مِن خيارهم، وخرج بهم إلى طور "سيناء" للوقت والأجل الذي واعده الله أن يلقاه فيه بهم للتوبة مما كان من سفهاء بني إسرائيل من عبادة العجل، فلما أتوا ذلك المكان قالوا: لن نؤمن لك -يا موسى- حتى نرى الله جهرة فإنك قد كلَّمته فأرِنَاهُ، فأخذتهم الزلزلة الشديدة فماتوا، فقام موسى يتضرع إلى الله ويقول: رب ماذا أقول لبني إسرائيل إذا أتيتُهم، وقد أهلكتَ خيارهم؟ لو شئت أهلكتهم جميعًا من قبل هذا الحال وأنا معهم، فإن ذلك أخف عليَّ، أتهلكنا بما فعله سفهاء الأحلام منا؟ ما هذه الفعلة التي فعلها قومي من عبادتهم العجل إلا ابتلاءٌ واختبارٌ، تضلُّ بها مَن تشاء مِن خلقك، وتهدي بها من تشاء هدايته، أنت وليُّنا وناصرنا، فاغفر ذنوبنا، وارحمنا برحمتك، وأنت خير مَن صفح عن جُرْم، وستر عن ذنب.
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍۢ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤْمِنُونَ
And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You." [Allah] said, "My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things." So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses -
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
واجعلنا ممن كتبتَ له الصالحات من الأعمال في الدنيا وفي الآخرة، إنا رجعنا تائبين إليك، قال الله تعالى لموسى: عذابي أصيب به مَن أشاء مِن خلقي، كما أصبتُ هؤلاء الذين أصبتهم من قومك، ورحمتي وسعت خلقي كلَّهم، فسأكتبها للذين يخافون الله، ويخشون عقابه، فيؤدون فرائضه، ويجتنبون معاصيه، والذين هم بدلائل التوحيد وبراهينه يصدقون.
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
Those who follow the Messenger, the unlettered prophet, whom they find written in what they have of the Torah and the Gospel, who enjoins upon them what is right and forbids them what is wrong and makes lawful for them the good things and prohibits for them the evil and relieves them of their burden and the shackles which were upon them. So they who have believed in him, honored him, supported him and followed the light which was sent down with him - it is those who will be the successful.
وہ جو (محمدﷺ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں
هذه الرحمة سأكتبها للذين يخافون الله ويجتنبون معاصيه، ويتبعون الرسول النبي الأمي الذي لا يقرأ ولا يكتب، وهو محمد صلى الله عليه وسلم، الذي يجدون صفته وأمره مكتوبَيْن عندهم في التوراة والإنجيل، يأمرهم بالتوحيد والطاعة وكل ما عرف حُسْنه، وينهاهم عن الشرك والمعصية وكل ما عرف قُبْحه، ويُحِلُّ لهم الطيبات من المطاعم والمشارب والمناكح، ويُحرِّم عليهم الخبائث منها كلحم الخنزير، وما كانوا يستحلُّونه من المطاعم والمشارب التي حرَّمها الله، ويذهب عنهم ما كُلِّفوه من الأمور الشاقة كقطع موضع النجاسة من الجلد والثوب، وإحراق الغنائم، والقصاص حتمًا من القاتل عمدًا كان القتل أم خطأ، فالذين صدَّقوا بالنبي الأمي محمد صلى الله عليه وسلم وأقروا بنبوته، ووقروه وعظَّموه ونصروه، واتبعوا القرآن المنزل عليه، وعملوا بسنته، أولئك هم الفائزون بما وعد الله به عباده المؤمنين.
قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِىِّ ٱلْأُمِّىِّ ٱلَّذِى يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
Say, [O Muhammad], "O mankind, indeed I am the Messenger of Allah to you all, [from Him] to whom belongs the dominion of the heavens and the earth. There is no deity except Him; He gives life and causes death." So believe in Allah and His Messenger, the unlettered prophet, who believes in Allah and His words, and follow him that you may be guided.
(اے محمدﷺ) کہہ دو کہ لوگو میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا (یعنی اس کا رسول) ہوں۔ (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ تو خدا پر اور اس کے رسول پیغمبر اُمی پر جو خدا پر اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ
قل -أيها الرسول- للناس كلهم: إني رسول الله إليكم جميعًا لا إلى بعضكم دون بعض، الذي له ملك السموات والأرض وما فيهما، لا ينبغي أن تكون الألوهية والعبادة إلا له جل ثناؤه، القادر على إيجاد الخلق وإفنائه وبعثه، فصدَّقوا بالله وأقرُّوا بوحدانيته، وصدَّقوا برسوله محمد صلى الله عليه وسلم النبي الأميِّ الذي يؤمن بالله وما أنزل إليه من ربه وما أنزل على النبيين من قبله، واتبعوا هذا الرسول، والتزموا العمل بما أمركم به من طاعة الله، رجاء أن توفقوا إلى الطريق المستقيم.
وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
And among the people of Moses is a community which guides by truth and by it establishes justice.
اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
ومِن بني إسرائيل من قوم موسى جماعة يستقيمون على الحق، يهدون الناس به، ويعدلون به في الحكم في قضاياهم.
وَقَطَّعْنَٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
And We divided them into twelve descendant tribes [as distinct] nations. And We inspired to Moses when his people implored him for water, "Strike with your staff the stone," and there gushed forth from it twelve springs. Every people knew its watering place. And We shaded them with clouds and sent down upon them manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not, but they were [only] wronging themselves.
اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کرکے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلویٰ اتارتے رہے۔ اور (ان سے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ۔ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان کیا اپنا ہی کیا
وفرَّقنا قوم موسى مِن بني إسرائيل اثنتي عشرة قبيلة بعدد الأسباط -وهم أبناء يعقوب- كل قبيلة معروفة من جهة نقيبها. وأوحينا إلى موسى إذ طلب منه قومه السقيا حين عطشوا في التِّيْه: أن اضرب بعصاك الحجر، فضربه، فانفجرت منه اثنتا عشرة عينًا من الماء، قد علمت كل قبيلة من القبائل الاثنتي عشرة مشربهم، لا تدخل قبيلة على غيرها في شربها، وظلَّلنا عليهم السحاب، وأنزلنا عليهم المنَّ -وهو شيء يشبه الصَّمغ، طعمه كالعسل - والسلوى، وهو طائر يشبه السُّمَانَى، وقلنا لهم: كلوا من طيبات ما رزقناكم، فكرهوا ذلك وملُّوه من طول المداومة عليه، وقالوا: لن نصبر على طعام واحد، وطلبوا استبدال الذي هو أدنى بالذي هو خير. وما ظلمونا حين لم يشكروا لله، ولم يقوموا بما أوجب الله عليهم، ولكن كانوا أنفسهم يظلمون؛ إذ فوَّتوا عليها كل خير، وعرَّضوها للشر والنقمة.
وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٰٔتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ
And [mention, O Muhammad], when it was said to them, "Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, 'Relieve us of our burdens,' and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]."
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
واذكر -أيها الرسول- عصيان بني إسرائيل لربهم سبحانه وتعالى ولنبيهم موسى عليه السلام، وتبديلهم القول الذي أمروا أن يقولوه حين قال الله لهم: اسكنوا قرية "بيت المقدس"، وكلوا من ثمارها وحبوبها ونباتها أين شئتم ومتى شئتم، وقولوا: حُطَّ عنا ذنوبنا، وادخلوا الباب خاضعين لله، نغفر لكم خطاياكم، فلا نؤاخذكم عليها، وسنزيد المحسنين مِن خَيْرَيِ الدنيا والآخرة.
فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ
But those who wronged among them changed [the words] to a statement other than that which had been said to them. So We sent upon them a punishment from the sky for the wrong that they were doing.
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
فغيَّر الذين كفروا بالله منهم ما أمرهم الله به من القول، ودخلوا الباب يزحفون على أستاههم، وقالوا: حبة في شعرة، فأرسلنا عليهم عذابًا من السماء، أهلكناهم به؛ بسبب ظلمهم وعصيانهم.
وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًۭا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ
And ask them about the town that was by the sea - when they transgressed in [the matter of] the sabbath - when their fish came to them openly on their sabbath day, and the day they had no sabbath they did not come to them. Thus did We give them trial because they were defiantly disobedient.
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
واسأل -أيها الرسول- هؤلاء اليهود عن خبر أهل القرية التي كانت بقرب البحر، إذ يعتدي أهلها في يوم السبت على حرمات الله، حيث أمرهم أن يعظموا يوم السبت ولا يصيدوا فيه سمكًا، فابتلاهم الله وامتحنهم؛ فكانت حيتانهم تأتيهم يوم السبت كثيرة طافية على وجه البحر، وإذا ذهب يوم السبت تذهب الحيتان في البحر، ولا يرون منها شيئًا، فكانوا يحتالون على حبسها في يوم السبت في حفائر، ويصطادونها بعده. وكما وصفنا لكم من الاختبار والابتلاء، لإظهار السمك على ظهر الماء في اليوم المحرم عليهم صيده فيه، وإخفائه عليهم في اليوم المحلل لهم فيه صيده، كذلك نختبرهم بسبب فسقهم عن طاعة الله وخروجهم عنها.
وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌۭ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ ٱللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًۭا شَدِيدًۭا ۖ قَالُوا۟ مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
And when a community among them said, "Why do you advise [or warn] a people whom Allah is [about] to destroy or to punish with a severe punishment?" they [the advisors] said, "To be absolved before your Lord and perhaps they may fear Him."
اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو الله ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں
واذكر -أيها الرسول- إذ قالت جماعة منهم لجماعة أخرى كانت تعظ المعتدين في يوم السبت، وتنهاهم عن معصية الله فيه: لِمَ تعظون قومًا الله مهلكهم في الدنيا بمعصيتهم إياه أو معذبهم عذابا شديدًا في الآخرة؟ قال الذين كانوا ينهَوْنهم عن معصية الله: نَعِظهم وننهاهم لِنُعْذَر فيهم، ونؤدي فرض الله علينا في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، ورجاء أن يتقوا الله، فيخافوه، ويتوبوا من معصيتهم ربهم وتعذِّيهم على ما حرَّم عليهم.
فَلَمَّا نَسُوا۟ مَا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦٓ أَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذْنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ بِعَذَابٍۭ بَـِٔيسٍۭ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ
And when they forgot that by which they had been reminded, We saved those who had forbidden evil and seized those who wronged, with a wretched punishment, because they were defiantly disobeying.
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
فلما تركت الطائفة التي اعتدت في يوم السبت ما ذُكِّرت به، واستمرت على غيِّها واعتدائها فيه، ولم تستجب لما وَعَظَتْها به الطائفة الواعظة، أنجى الله الذين ينهون عن معصيته، وأخذ الذين اعتدَوْا في يوم السبت بعذاب أليم شديد؛ بسبب مخالفتهم أمر الله وخروجهم عن طاعته.
فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
So when they were insolent about that which they had been forbidden, We said to them, "Be apes, despised."
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
فلما تمردت تلك الطائفة، وتجاوزت ما نهاها الله عنه من عدم الصيد في يوم السبت، قال لهم الله: كونوا قردة خاسئين مبعدين من كل خير، فكانوا كذلك.
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
And [mention] when your Lord declared that He would surely [continue to] send upon them until the Day of Resurrection those who would afflict them with the worst torment. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful.
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
واذكر -أيها الرسول- إذ علم ذلك إعلامًا صريحًا ليبعثن على اليهود مَن يذيقهم سوء العذاب والإذلال إلى يوم القيامة. إن ربك -أيها الرسول- لسريع العقاب لِمَن استحقه بسبب كفره ومعصيته، وإنه لغفور عن ذنوب التائبين، رحيم بهم.
وَقَطَّعْنَٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أُمَمًۭا ۖ مِّنْهُمُ ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَٰهُم بِٱلْحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
And We divided them throughout the earth into nations. Of them some were righteous, and of them some were otherwise. And We tested them with good [times] and bad that perhaps they would return [to obedience].
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
وفرَّقنا بني إسرائيل في الأرض جماعات، منهم القائمون بحقوق الله وحقوق عباده، ومنهم المقصِّرون الظالمون لأنفسهم، واختبرنا هؤلاء بالرخاء في العيش والسَّعَة في الرزق، واختبرناهم أيضًا بالشدة في العيش والمصائب والرزايا؛ رجاء أن يرجعوا إلى طاعة ربهم ويتوبوا من معاصيه.
فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌۭ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌۭ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَٰقُ ٱلْكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
And there followed them successors who inherited the Scripture [while] taking the commodities of this lower life and saying, "It will be forgiven for us." And if an offer like it comes to them, they will [again] take it. Was not the covenant of the Scripture taken from them that they would not say about Allah except the truth, and they studied what was in it? And the home of the Hereafter is better for those who fear Allah, so will you not use reason?
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
فجاء من بعد هؤلاء الذين وصفناهم بَدَلُ سوء أخذوا الكتاب من أسلافهم، فقرءوه وعلموه، وخالفوا حكمه، يأخذون ما يعرض لهم من متاع الدنيا من دنيء المكاسب كالرشوة وغيرها؛ وذلك لشدة حرصهم ونَهَمهم، ويقولون مع ذلك: إن الله سيغفر لنا ذنوبنا تمنيًا على الله الأباطيل، وإن يأت هؤلاء اليهودَ متاعٌ زائلٌ من أنواع الحرام يأخذوه ويستحلوه، مصرِّين على ذنوبهم وتناولهم الحرام، ألَمْ يؤخذ على هؤلاء العهود بإقامة التوراة والعمل بما فيها، وألا يقولوا على الله إلا الحق وألا يكذبوا عليه، وعلموا ما في الكتاب فضيعوه، وتركوا العمل به، وخالفوا عهد الله إليهم في ذلك؟ والدار الآخرة خير للذين يتقون الله، فيمتثلون أوامره، ويجتنبون نواهيه، أفلا يعقل هؤلاء الذين يأخذون دنيء المكاسب أن ما عند الله خير وأبقى للمتقين؟
وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلْكِتَٰبِ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُصْلِحِينَ
But those who hold fast to the Book and establish prayer - indeed, We will not allow to be lost the reward of the reformers.
اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (ان کو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے
والذين يتمسَّكون بالكتاب، ويعملون بما فيه من العقائد والأحكام، ويحافظون على الصلاة بحدودها، ولا يضيعون أوقاتها، فإن الله يثيبهم على أعمالهم الصالحة، ولا يضيعها.
۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
And [mention] when We raised the mountain above them as if it was a dark cloud and they were certain that it would fall upon them, [and Allah said], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that you might fear Allah."
اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ
واذكر -أيها الرسول- إذ رفعنا الجبل فوق بني إسرائيل كأنه سحابة تظلهم، وأيقنوا أنه واقع بهم إن لم يقبلوا أحكام التوراة، وقلنا لهم: خذوا ما آتيناكم بقوة، أي اعملوا بما أعطيناكم باجتهاد منكم، واذكروا ما في كتابنا من العهود والمواثيق التي أخذناها عليكم بالعمل بما فيه؛ كي تتقوا ربكم فتنجوا من عقابه.
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَٰفِلِينَ
And [mention] when your Lord took from the children of Adam - from their loins - their descendants and made them testify of themselves, [saying to them], "Am I not your Lord?" They said, "Yes, we have testified." [This] - lest you should say on the day of Resurrection, "Indeed, we were of this unaware."
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی
واذكر -أيها النبي- إذ استخرج ربك أولاد آدم مِن أصلاب آبائهم، وقررهم بتوحيده بما أودعه في فطرهم من أنه ربهم وخالقهم ومليكهم، فأقروا له بذلك، خشية أن ينكروا يوم القيامة، فلا يقروا بشيء فيه، ويزعموا أن حجة الله ما قامت عليهم، ولا عندهم علم بها، بل كانوا عنها غافلين.
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ
Or [lest] you say, "It was only that our fathers associated [others in worship] with Allah before, and we were but descendants after them. Then would You destroy us for what the falsifiers have done?"
یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے
أو لئلا تقولوا: إنما أشرك آباؤنا من قبلنا ونقضوا العهد، فاقتدينا بهم من بعدهم، أفتعذبنا بما فعل الذين أبطلوا أعمالهم بجعلهم مع الله شريكا في العبادة؟
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
And thus do We [explain in] detail the verses, and perhaps they will return.
اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں
وكما فَصَّلْنا الآيات، وبيَّنَّا فيها ما فعلناه بالأمم السابقة، كذلك نفصِّل الآيات ونبيِّنها لقومك أيها الرسول؛ رجاء أن يرجعوا عن شركهم، وينيبوا إلى ربهم.
وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ
And recite to them, [O Muhammad], the news of him to whom we gave [knowledge of] Our signs, but he detached himself from them; so Satan pursued him, and he became of the deviators.
اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا
واقصص -أيها الرسول- على أمتك خبر رجل من بني إسرائيل أعطيناه حججنا وأدلتنا، فتعلَّمها، ثم كفر بها، ونبذها وراء ظهره، فاستحوذ عليه الشيطان، فصار من الضالين الهالكين؛ بسبب مخالفته أمر ربه وطاعته الشيطان.
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
And if We had willed, we could have elevated him thereby, but he adhered [instead] to the earth and followed his own desire. So his example is like that of the dog: if you chase him, he pants, or if you leave him, he [still] pants. That is the example of the people who denied Our signs. So relate the stories that perhaps they will give thought.
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں
ولو شئنا أن نرفع قدره بما آتيناه من الآيات لفعلنا، ولكنه رَكَنَ إلى الدنيا واتبع هواه، وآثر لَذَّاته وشهواته على الآخرة، وامتنع عن طاعة الله وخالف أمره. فَمَثَلُ هذا الرجل مثل الكلب، إن تطرده أو تتركه يُخْرج لسانه في الحالين لاهثًا، فكذلك الذي انسلخ من آيات الله يظل على كفره إن اجتهدْتَ في دعوتك له أو أهملته، هذا الوصف -أيها الرسول- وصف هؤلاء القوم الذين كانوا ضالين قبل أن تأتيهم بالهدى والرسالة، فاقصص -أيها الرسول- أخبار الأمم الماضية، ففي إخبارك بذلك أعظم معجزة، لعل قومك يتدبرون فيما جئتهم به فيؤمنوا لك.
سَآءَ مَثَلًا ٱلْقَوْمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ
How evil an example [is that of] the people who denied Our signs and used to wrong themselves.
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا
قَبُحَ مثلا مثلُ القوم الذين كذَّبوا بحجج الله وأدلته، فجحدوها، وأنفسهم كانوا يظلمونها؛ بسبب تكذيبهم بهذه الحجج والأدلة.
مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِى ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ
Whoever Allah guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray - it is those who are the losers.
جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
من يوفقه الله للإيمان به وطاعته فهو الموفَّق، ومن يخذله فلم يوفقه فهو الخاسر الهالك، فالهداية والإضلال من الله وحده.
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ
And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray. It is they who are the heedless.
اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
ولقد خلقنا للنار -التي يعذِّب الله فيها مَن يستحق العذاب في الآخرة - كثيرًا من الجن والإنس، لهم قلوب لا يعقلون بها، فلا يرجون ثوابًا ولا يخافون عقابًا، ولهم أعين لا ينظرون بها إلى آيات الله وأدلته، ولهم آذان لا يسمعون بها آيات كتاب الله فيتفكروا فيها، هؤلاء كالبهائم التي لا تَفْقَهُ ما يقال لها، ولا تفهم ما تبصره، ولا تعقل بقلوبها الخير والشر فتميز بينهما، بل هم أضل منها؛ لأن البهائم تبصر منافعها ومضارها وتتبع راعيها، وهم بخلاف ذلك، أولئك هم الغافلون عن الإيمان بالله وطاعته.
وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
And to Allah belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names. They will be recompensed for what they have been doing.
اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے
ولله سبحانه وتعالى الأسماء الحسنى، الدالة على كمال عظمته، وكل أسمائه حسن، فاطلبوا منه بأسمائه ما تريدون، واتركوا الذين يُغيِّرون في أسمائه بالزيادة أو النقصان أو التحريف، كأن يُسمَّى بها من لا يستحقها، كتسمية المشركين بها آلهتهم، أو أن يجعل لها معنى لم يُردْه الله ولا رسوله، فسوف يجزون جزاء أعمالهم السيئة التي كانوا يعملونها في الدنيا من الكفر بالله، والإلحاد في أسمائه وتكذيب رسوله.
وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ
And among those We created is a community which guides by truth and thereby establishes justice.
اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں
ومن الذين خَلَقْنا جماعة فاضلة يهتدون بالحق ويَدْعون إليه، وبه يقضون وينصفون الناس، وهم أئمة الهدى ممن أنعم الله عليهم بالإيمان والعمل الصالح.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ
But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction] from where they do not know.
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا
والذين كذَّبوا بآياتنا، فجحدوها، ولم يتذكروا بها، سنفتح لهم أبواب الرزق ووجوه المعاش في الدنيا، استدراجًا لهم حتى يغتروا بما هم فيه ويعتقدوا أنهم على شيء، ثم نعاقبهم على غِرَّة من حيث لا يعلمون. وهذه عقوبة من الله على التكذيب بحجج الله وآياته.
وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ
And I will give them time. Indeed, my plan is firm.
اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے
وأمهل هؤلاء الذين كذبوا بآياتنا حتى يظنوا أنهم لا يعاقبون، فيزدادوا كفرًا وطغيانًا، وبذلك يتضاعف لهم العذاب. إن كيدي متين، أي: قوي شديد لا يُدْفع بقوة ولا بحيلة.
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ
Then do they not give thought? There is in their companion [Muhammad] no madness. He is not but a clear warner.
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
أولم يتفكر هؤلاء الذين كذبوا بآياتنا فيتدبروا بعقولهم، ويعلموا أنه ليس بمحمد جنون؟ ما هو إلا نذير لهم من عقاب الله على كفرهم به إن لم يؤمنوا، ناصح مبين.
أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allah has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement hereafter will they believe?
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
أولم ينظر هؤلاء المكذبون بآيات الله في ملك الله العظيم وسلطانه القاهر في السموات والأرض، وما خلق الله -جلَّ ثناؤه- من شيء فيهما، فيتدبروا ذلك ويعتبروا به، وينظروا في آجالهم التي عست أن تكون قَرُبَتْ فيهلكوا على كفرهم، ويصيروا إلى عذاب الله وأليم عقابه؟ فبأي تخويف وتحذير بعد تحذير القرآن يصدقون ويعملون؟
مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
Whoever Allah sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.
جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
مَن يضلله الله عن طريق الرشاد فلا هادي له، ويتركُهم في كفرهم يتحيرون ويترددون.
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival? Say, "Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly." They ask you as if you are familiar with it. Say, "Its knowledge is only with Allah, but most of the people do not know."
(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے
يسألك -أيها الرسول- كفار "مكة" عن الساعة متى قيامها؟ قل لهم: عِلْمُ قيامها عند الله لا يظهرها إلا هو، ثَقُلَ علمها، وخفي على أهل السموات والأرض، فلا يعلم وقت قيامها ملَك مقرَّب ولا نبي مرسل، لا تجيء الساعة إلا فجأة، يسألك هؤلاء القوم عنها كأنك حريص على العلم بها، مستقص بالسؤال عنها، قل لهم: إنما علمها عند الله الذي يعلم غيب السموات والأرض، ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمون أن ذلك لا يعلمه إلا الله.
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
Say, "I hold not for myself [the power of] benefit or harm, except what Allah has willed. And if I knew the unseen, I could have acquired much wealth, and no harm would have touched me. I am not except a warner and a bringer of good tidings to a people who believe."
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
قل -أيها الرسول-: لا أقدرُ على جَلْبِ خير لنفسي ولا دفع شر يحل بها إلا ما شاء الله، ولو كنت أعلم الغيب لفعلت الأسباب التي أعلم أنها تكثِّر لي المصالح والمنافع، ولاتَّقيتُ ما يكون من الشر قبل أن يقع، ما أنا إلا رسول الله أرسلني إليكم، أخوِّف من عقابه، وأبشر بثوابه قومًا يصدقون بأني رسول الله، ويعملون بشرعه.
۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ
It is He who created you from one soul and created from it its mate that he might dwell in security with her. And when he covers her, she carries a light burden and continues therein. And when it becomes heavy, they both invoke Allah, their Lord, "If You should give us a good [child], we will surely be among the grateful."
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
هو الذي خلقكم -أيها الناس- من نفس واحدة، وهي آدم عليه السلام وخَلَق منها زوجها، وهي حواء؛ ليأنس بها ويطمئن، فلما جامعها -والمراد جنس الزوجين من ذرية آدم- حملت ماءً خفيفًا، فقامت به وقعدت وأتمت الحمل، فلما قَرُبت ولادتها وأثقلت دعا الزوجان ربهما: لئن أعطيتنا بشرًا سويًا صالحًا لنكونن ممن يشكرك على ما وهبت لنا من الولد الصالح.
فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
But when He gives them a good [child], they ascribe partners to Him concerning that which He has given them. Exalted is Allah above what they associate with Him.
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
فلما رزق الله الزوجين ولدًا صالحًا، جعلا لله شركاء في ذلك الولد الذي انفرد الله بخلقه فعبَّداه لغير الله، فتعالى الله وتنزه عن كل شرك.
أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ
Do they associate with Him those who create nothing and they are [themselves] created?
کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں
أيشرك هؤلاء المشركون في عبادة الله مخلوقاته، وهي لا تقدر على خَلْق شيء، بل هي مخلوقة؟
وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
And the false deities are unable to [give] them help, nor can they help themselves.
اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں
ولا تستطيع أن تنصر عابديها أو تدفع عن نفسها سوءًا، فإذا كانت لا تخلق شيئًا، بل هي مخلوقة، ولا تستطيع أن تدفع المكروه عمن يعبدها، ولا عن نفسها، فكيف تُتَّخذ مع الله آلهة؟ إنْ هذا إلا أظلم الظلم وأسفه السَّفَه.
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ
And if you [believers] invite them to guidance, they will not follow you. It is all the same for you whether you invite them or you are silent.
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
وإن تدعوا -أيها المشركون- هذه الأصنام التي عبدتموها من دون الله إلى الهدى، لا تسمع دعاءكم ولا تتبعكم؛ يستوي دعاؤكم لها وسكوتكم عنها؛ لأنها لا تسمع ولا تبصر ولا تَهدِي ولا تُهدى.
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
Indeed, those you [polytheists] call upon besides Allah are servants like you. So call upon them and let them respond to you, if you should be truthful.
(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں
إن الذين تعبدون من غير الله -أيها المشركون- هم مملوكون لربهم كما أنكم مملوكون لربكم، فإن كنتم كما تزعمون صادقين في أنها تستحق من العبادة شيئًا فادعوهم فليستجيبوا لكم، فإن استجابوا لكم وحصَّلوا مطلوبكم، وإلا تبين أنكم كاذبون مفترون على الله أعظم الفرية.
أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ
Do they have feet by which they walk? Or do they have hands by which they strike? Or do they have eyes by which they see? Or do they have ears by which they hear? Say, [O Muhammad], "Call your 'partners' and then conspire against me and give me no respite.
بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)
ألهذه الآلهة والأصنام أرجل يسعَوْن بها معكم في حوائجكم؟ أم لهم أيدٍ يدفعون بها عنكم وينصرونكم على من يريد بكم شرًا ومكروهًا؟ أم لهم أعين ينظرون بها فيعرِّفونكم ما عاينوا وأبصروا مما يغيب عنكم فلا ترونه؟ أم لهم آذان يسمعون بها فيخبرونكم بما لم تسمعوه؟ فإذا كانت آلهتكم التي تعبدونها ليس فيها شيء من هذه الآلات، فما وجه عبادتكم إياها، وهي خالية من هذه الأشياء التي بها يتوصل إلى جلب النفع أو دفع الضر؟ قل -أيها الرسول- لهؤلاء المشركين من عبدة الأوثان: ادعوا آلهتكم الذين جعلتموهم لله شركاء في العبادة، ثم اجتمعوا على إيقاع السوء والمكروه بي، فلا تؤخروني وعجِّلوا بذلك، فإني لا أبالي بآلهتكم؛ لاعتمادي على حفظ الله وحده.
إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ
Indeed, my protector is Allah, who has sent down the Book; and He is an ally to the righteous.
میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے
إن وليِّيَ الله، الذي يتولى حفظي ونصري، هو الذي نزَّل عليَّ القرآن بالحق، وهو يتولى الصالحين مِن عباده، وينصرهم على أعدائهم ولا يخذلهم.
وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ
And those you call upon besides Him are unable to help you, nor can they help themselves."
اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں
والذين تدعون -أنتم أيها المشركون- مِن غير الله من الآلهة لا يستطيعون نصركم، ولا يقدرون على نصرة أنفسهم.
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ
And if you invite them to guidance, they do not hear; and you see them looking at you while they do not see.
اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے
وإن تدعوا -أيها المشركون- آلهتكم إلى الاستقامة والسداد لا يسمعوا دعاءكم، وترى -أيها الرسول- آلهة هؤلاء المشركين مِن عبدة الأوثان يقابلونك كالناظر إليك وهم لا يبصرون؛ لأنهم لا أبصار لهم ولا بصائر.
خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ
Take what is given freely, enjoin what is good, and turn away from the ignorant.
(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو
اقْبَلْ -أيها النبي أنت وأمتك- الفضل من أخلاق الناس وأعمالهم، ولا تطلب منهم ما يشق عليهم حتى لا ينفروا، وأْمر بكل قول حسن وفِعْلٍ جميل، وأعرض عن منازعة السفهاء ومساواة الجهلة الأغبياء.
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
And if an evil suggestion comes to you from Satan, then seek refuge in Allah. Indeed, He is Hearing and Knowing.
اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے
وإما يصيبنَّك -أيها النبي- من الشيطان غضب أو تُحِس منه بوسوسة وتثبيط عن الخير أو حث على الشرِّ، فالجأ إلى الله مستعيذًا به، إنه سميع لكل قول، عليم بكل فعل.
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ إِذَا مَسَّهُمْ طَٰٓئِفٌۭ مِّنَ ٱلشَّيْطَٰنِ تَذَكَّرُوا۟ فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ
Indeed, those who fear Allah - when an impulse touches them from Satan, they remember [Him] and at once they have insight.
جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں
إن الذين اتقوا الله مِن خلقه، فخافوا عقابه بأداء فرائضه واجتناب نواهيه، إذا أصابهم عارض من وسوسة الشيطان تذكَّروا ما أوجب الله عليهم من طاعته، والتوبة إليه، فإذا هم منتهون عن معصية الله على بصيرة، آخذون بأمر الله، عاصون للشيطان.
وَإِخْوَٰنُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِى ٱلْغَىِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ
But their brothers - the devils increase them in error; then they do not stop short.
اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں پھر (اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے
وإخوان الشياطين، وهم الفجَّار من ضلال الإنس تمدهم الشياطين من الجن في الضلالة والغَواية، ولا تدَّخر شياطين الجن وُسْعًا في مدِّهم شياطين الإنس في الغيِّ، ولا تدَّخر شياطين الإنس وُسْعًا في عمل ما توحي به شياطين الجن.
وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِـَٔايَةٍۢ قَالُوا۟ لَوْلَا ٱجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ مِن رَّبِّى ۚ هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ
And when you, [O Muhammad], do not bring them a sign, they say, "Why have you not contrived it?" Say, "I only follow what is revealed to me from my Lord. This [Qur'an] is enlightenment from your Lord and guidance and mercy for a people who believe."
اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔ کہہ دو کہ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش وبصیرت اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
وإذا لم تجئ -أيها الرسول- هؤلاء المشركين بآية قالوا: هلا أحدَثْتها واختلقتها من عند نفسك، قل لهم -أيها الرسول-: إن هذا ليس لي، ولا يجوز لي فِعْله؛ لأن الله إنما أمرني باتباع ما يوحى إليَّ من عنده، وهو هذا القرآن الذي أتلوه عليكم حججًا وبراهين من ربكم، وبيانًا يهدي المؤمنين إلى الطريق المستقيم، ورحمة يرحم الله بها عباده المؤمنين.
وَإِذَا قُرِئَ ٱلْقُرْءَانُ فَٱسْتَمِعُوا۟ لَهُۥ وَأَنصِتُوا۟ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
So when the Qur'an is recited, then listen to it and pay attention that you may receive mercy.
اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے
وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له أيها الناس وأنصتوا، لتعقلوه رجاء أن يرحمكم الله به.
وَٱذْكُر رَّبَّكَ فِى نَفْسِكَ تَضَرُّعًۭا وَخِيفَةًۭ وَدُونَ ٱلْجَهْرِ مِنَ ٱلْقَوْلِ بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْغَٰفِلِينَ
And remember your Lord within yourself in humility and in fear without being apparent in speech - in the mornings and the evenings. And do not be among the heedless.
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح وشام یاد کرتے رہو اور (دیکھنا) غافل نہ ہونا
واذكر -أيها الرسول- ربك في نفسك تخشعًا وتواضعًا لله خائفًا وجل القلب منه، وادعه متوسطًا بين الجهر والمخافتة في أول النهار وآخره، ولا تكن من الذين يَغْفُلون عن ذكر الله، ويلهون عنه في سائر أوقاتهم.
إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسْجُدُونَ ۩
Indeed, those who are near your Lord are not prevented by arrogance from His worship, and they exalt Him, and to Him they prostrate.
جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور اس کے آگے سجدے کرتے رہتے ہیں
إن الذين عند ربك من الملائكة لا يستكبرون عن عبادة الله، بل ينقادون لأوامره، ويسبحونه بالليل والنهار، وينزهونه عما لا يليق به، وله وحده لا شريك له يسجدون.